Ruh-ul-Quran - Saad : 9
اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ
اَمْ : کیا عِنْدَهُمْ : ان کے پاس خَزَآئِنُ : خزانے رَحْمَةِ رَبِّكَ : تمہارے رب کی رحمت الْعَزِيْزِ : غالب الْوَهَّابِ : بہت عطا کرنے والا
کیا تیرے رب کی رحمت کے خزانے جو عزیز اور وہاب ہے ان کے قبضے میں ہیں
اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِالْوَھَّابِ ۔ (صٓ: 9) (کیا تیرے رب کی رحمت کے خزانے جو عزیز اور وہاب ہے ان کے قبضے میں ہیں۔ ) قریش کی رعونت کا جواب سابقہ آیت کریمہ میں قریش اور دیگر مخالفین نے آنحضرت ﷺ کو نبوت دیئے جانے پر جو اعتراض کیا تھا پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ یعنی ان لوگوں کا یہ کہنا کہ نبوت اور رسالت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور اور بہت بڑے منصب ہیں۔ ان کا اہل اگر کوئی ہوسکتا ہے تو صرف وہ شخص ہوسکتا ہے جو لوگوں کی نگاہ میں عزت سے دیکھا جاتا ہو۔ اور جس کے سر پر دولت کا تاج ہو اور جسے انسانی معاشرے میں بڑی قدرومنزلت حاصل ہو۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ نبوت اللہ تعالیٰ کی رحمت سہی، لیکن اس کا مستحق کون ہے ؟ کیا وہ شخص جس کا فیصلہ مکہ کے اصحابِ ثروت کریں یا اس کے فیصلے کا اختیار پروردگارِعالم کو ہے۔ اگر انھیں اصرار ہے کہ نبوت کے لیے ہمارے معیار کو تسلیم کیا جانا چاہیے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے دراصل ان کی تحویل میں دے دیئے گئے ہیں۔ اب ان خزانوں سے جو چیز بھی نکلے گی ان کے اختیار سے نکلے گی۔ حالانکہ کوئی مجہول شخص بھی یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے قبضے میں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو عزیز ہے یعنی سب پر غالب ہے، کوئی اس کے سامنے دم نہیں مار سکتا۔ اور وہ وہاب ہے یعنی اس قدر عطا کرنے والا ہے کہ اس کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں ہوتی۔ وہ بلاشرکت غیرے ہر چیز پر مالک اور متصرف ہے۔ وہ اپنی عطا و بخشش میں کسی کے زیراثر نہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے زمین کے خزف ریزے بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نبوت و رسالت اور علم و حکمت کی بادشاہی بخشتا ہے۔ کیونکہ جو عزیز ہوگا اس پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ اور جو وہاب ہوگا اس کی عطا و بخشش کسی کی پابند نہیں ہوسکتی۔
Top