Kashf-ur-Rahman - Saad : 9
اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِۚ
اَمْ : کیا عِنْدَهُمْ : ان کے پاس خَزَآئِنُ : خزانے رَحْمَةِ رَبِّكَ : تمہارے رب کی رحمت الْعَزِيْزِ : غالب الْوَهَّابِ : بہت عطا کرنے والا
کیا اے پیغمبر آپ کا پروردگار جو کمال قوت اور کمال عطا کا مالک ہے اس کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں
(9) کیا اے پیغمبر آپ کا پروردگا جو کمال قوت اور کمال عطا کا مالک ہے اس کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ جو کہتے تھے کہ ہم پر کیوں نے اترا۔ خلاصہ : یہ ہے کہ اس وہاب اور عزیز کی رحمت کے خزانے کیا ان کے پاس ہیں کہ یہ جس چاہیں نبوت دیں رحمت جس میں نبوت داخل ہے اس کے خزانے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ جس کو چاہے عطا کرے وہ خزانے ان کے اختیار میں ہوتے تو ان سے پوچھ کر تقسیم کئے جاتے۔ رحمت کا لفظ قرآن میں عام طور سے روحانی ترقی اور برتری کے لئے استعمال ہوتا ہے جس طرح فضل کا لفظ دنیاوی ترقی اور مال کے اضافہ کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی لئے ہم نے عرض کیا کہ رحمت میں نبوت داخل ہے جو روحانی ترقی کی انتہائی چیز ہے اگرچہ کہیں کہیں اس کا عکس بھی ہوتا ہے لیکن عام طور سے رحمت کا استعمال روحانیات میں اور فضل کا استعمال بہتایت مال میں ہوتا ہے (کما قال انشاہ ولی اللہ الدہلوی) ۔
Top