Madarik-ut-Tanzil - Al-Kahf : 40
وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ١ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا
وَاِنِ : اور اگر امْرَاَةٌ : کوئی عورت خَافَتْ : ڈرے مِنْۢ بَعْلِھَا : اپنے خاوند سے نُشُوْزًا : زیادتی اَوْ : یا اِعْرَاضًا : بےرغبتی فَلَا جُنَاحَ : تو نہیں گناہ عَلَيْهِمَآ : ان دونوں پر اَنْ يُّصْلِحَا : کہ وہ صلح کرلیں بَيْنَهُمَا : آپس میں صُلْحًا : صلح وَالصُّلْحُ : اور صلح خَيْرٌ : بہتر وَاُحْضِرَتِ : اور حاضر کیا گیا (موجود ہے) الْاَنْفُسُ : طبیعتیں الشُّحَّ : بخل وَاِنْ : اور اگر تُحْسِنُوْا : تم نیکی کرو وَتَتَّقُوْا : اور پرہیزگاری کرو فَاِنَّ : تو بیشک اللّٰهَ : اللہ كَانَ : ہے بِمَا تَعْمَلُوْنَ : جو تم کرتے ہو خَبِيْرًا : باخبر
تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (تمہارے باغ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے
مجھے باغ جنت ملے گا : 40: فَعَسٰی رَبِّیْ اَنْ یّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِکَ (پس امید ہے کہ عنقریب میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر اور بڑھیا چیز عنایت فرمائیگا) دنیا میں یا آخرت میں وَیُرْسِلَ عَلَیْھَا حُسْبَانًا (اور تیرے باغ پر تقدیری آفت بھیج دے گا) حسباناؔ سے عذاب مراد ہے۔ مِّنَ السَّمَآ ئِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًا (آسمان سے پھر وہ چٹیل چکنا میدان بن جائے گا) صعیداً زلقاً سفید زمین جس کی ملائمت کی وجہ سے اس پر لوگ پھسلیں۔
Top