Tadabbur-e-Quran - Saad : 31
وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ
وَالشَّيٰطِيْنَ : اور دیو (جنات) كُلَّ : تمام بَنَّآءٍ : عمارت بنانے والے وَّغَوَّاصٍ : اور غوطہ مارنے والا
اور سرکش جنوں کو بھی اس کے لئے مسخر کردیا۔ نہایت ماہر معماروں اور غوطہ خوروں کو
والسطین کل بنآء وغراص، واخرین مقربین فی الاصنعاد (38-37) تسخیر جنات کا علم ہوا کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کو ایک ایسا علم بھی دیا تھا جس سے وہ شریر جنوں کو مسخر کر کے ان کو اپنی تعمیرات کے کاموں میں بھی لگاتے اور سمندری دولت سے فائدہ اٹھانے کے لئے ان سے غوطہ خوری بھی کرتاے۔ شیاطین سے مراد یہاں شیاطین جن ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان ؑ صرف شریر جنوں ہی کو مسخر کرتے، صالحین سے تعرض نہیں کرتے تھے۔ کل نبآء و عواض میں لفظ کل میرے نزدیک صفت کی تاکید کے لئے ہے۔ یعنی وہ نہایت ماہر معماروں اور غوطہ خوروں کو مسخر کئے ہوئے تیھ۔ واخرین مقرنین فی الاصفاد یعنی جنوں کی ایک پارٹی ریزرو فورس کی حیثیت سے بھی زنجیروں میں قید، ان کے پاس موجود تھی کہ عند الضرورت ان سے کام لیا جاسکے۔
Top