Tadabbur-e-Quran - Saad : 36
فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ
فَسَخَّرْنَا : پھر ہم نے مسخر کردیا لَهُ : اس کے لیے الرِّيْحَ : ہوا تَجْرِيْ : وہ چلتی تھی بِاَمْرِهٖ : اس کے حکم سے رُخَآءً : نرمی سے حَيْثُ : جہاں اَصَابَ : وہ پہنچنا چاہتا
تو ہم نے اس کی خدمت میں لگا دیا ہوا کو جو اس کے حکم سے سازگار ہو کر چلتی جہاں کہیں کا وہ قصد کرتا
فسخرنالہ الریح تجری بامرہ رخآء بعیث اصاب (36) اس آیت کا اسلوب بیان اشارہ کر رہا ہے کہ مذکورہ بالا امتحان کے بعد حضرت سلیمان ؑ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہوا کہ اس نے ہوا پر بھی ان کو ایسا تصرف بخشا جو ان سے پہلے کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ سورة انبیاء اور بعض دوسری سورتوں کی تفسیر میں ہم واضح کر آئے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ کی بحری قوت ان کے زمانہ کی سب سے بڑی بحری قوت اور ان کا بحری بیڑا اپنے زمانہ کا سب سے زیادہ طاقتور بیڑا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہوا کو کنٹرول کرنے کے لئے بادبانی نظام کو انہوں نے اتنی ترقی دی کہ ان کے جہازات ہر قسم کے سمندروں میں لمبے لمبے سفر کرتے اور ان کے سفر میں نہ ہوا کی کمی سے کوئی خلل پڑتا نہ اس کی شدت سے وہ سخت سے سخت طوفانی ہوائوں کا بھی نہایت کامیابی سے مقابلہ کرتے اور موافق ہوا نہ ہونے کے باوجود اپنے سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھتے۔ لوہے کی صنعت میں ترقی کر کے جس طرح حضرت دائود ؑ نے اپنی بریقوت ناقابل تسخیر بنا لی تھی اسی طرح بادبانی ستم کو ترقی دے کر حضرت سلیمان ؑ نے اپنی بحری قوت میں بےمثال اضافہ کرلیا تھا۔ حضرت سلیمان کا ہوا پر کنٹرول تجری بامرہ رخآء حیث اصاب اصاب، یہاں ہدف ٹھہرانے کے مفہوم میں ہے، جس طرح اصاب الھم کا محاورہ ہے یعنی اپنے جہاز بھیجنے کے لئے جس مقام کو وہ اپنا ہدف بناتے وہ بےروک ٹوک، فصل و موسم کا انتظار کئے بغیر، وہاں کے لئے روانہ ہوجاتے، اس لئے کہ ہوا ان کے کٹنرول میں تھی۔ وہ اپنے سفر کے لئے اس کو جب چاہتے ساز گار بنا لیتے۔
Top