Urwatul-Wusqaa - Saad : 62
وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے مَا لَنَا : کیا ہوا ہمیں لَا نَرٰى : ہم نہیں دیکھتے رِجَالًا : وہ لوگ كُنَّا نَعُدُّهُمْ : ہم شمار کرتے تھے انہیں مِّنَ : سے الْاَشْرَارِ : (جمع) شریر (بہت برے)
اور وہ (آپس میں) کہیں گے یہ کیا بات ہے کہ ہم ان کو نہیں دیکھتے جن کو ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے
پھر وہ آپس میں کہیں گے کہ یار کیا وجہ ہے کہ ہم جن کو نہایت برا سمجھتے تھے وہ نظر نہیں آتے ؟ 62۔ بعد میں داخل ہونے والے آپس میں ایک دوسرے سے مخاطب ہو کر کہیں گے یارو خیال کرو کہ یہ سب تو ہمارے سردار اور پیشوا ہیں جن کو ہم دیکھ رہے ہیں لیکن دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کو ہم شرارتی سمجھتے تھے اور ہمارے یہ سارے سردار بھی ان کو شریر ہی سمجھتے تھے لیکن وہ اس جگہ کہیں بھی نظر نہیں آرہے ۔ وہ اس جگہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیتے۔ ان کی نظریں ان کو تلاش کریں گی لیکن وہ ان کو وہاں کیسے نظر آسکتے ہیں۔ وہ تو ماشاء اللہ جنت میں اللہ تعالیٰ کے انعامات حاصل کرچکے ہیں اور ان کے دل اب ٹھنڈے ہیں اور آنکھیں انعامات الہٰی سے مخمور ہیں انہیں جو دکھ اور مصیبتیں دنیا میں پہنچی تھیں اور جس طرح انہوں نے ان پر صبر کیا تھا اس کا صلہ وہ حاصل کرچکے ہیں۔
Top