Siraj-ul-Bayan - Al-Anbiyaa : 89
رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ
رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اِنَّكَ : بیشک تو تَعْلَمُ : تو جانتا ہے مَا نُخْفِيْ : جو ہم چھپاتے ہیں وَمَا : اور جو نُعْلِنُ : ہم ظاہر کرتے ہیں وَمَا : اور نہیں يَخْفٰى : چھپی ہوئی عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر مِنْ : سے۔ کوئی شَيْءٍ : چیز فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَلَا : اور نہ فِي : مین السَّمَآءِ : آسمان
اور زکریا کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑو اور تو سب سے بہتر وارث ہے
(21:89) لا تذرنی۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ تو مجھے نہ چھوڑ وذر سے جس کے معنی کسی چیز کو اس کی پرواہ نہ ہونے کے سبب پھینک دینے اور چھوڑ دینے کے ہیں۔ اس فعل سے ماضی مستعمل نہیں۔ فردا۔ اکیلا۔ تنہا۔ (لا وارث)
Top