Ashraf-ul-Hawashi - Al-Anbiyaa : 92
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ
وَ : اور ذَا النُّوْنِ : ذوالنون (مچھلی والا) اِذْ : جب ذَّهَبَ : چلا وہ مُغَاضِبًا : غصہ میں بھر کر فَظَنَّ : پس گمان کیا اس نے اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ : کہ ہم ہرگز تنگی نہ کریں گے عَلَيْهِ : اس پر فَنَادٰي : تو اس نے پکارا فِي الظُّلُمٰتِ : اندھیروں میں اَنْ لَّآ : کہ نہیں اِلٰهَ : کوئی معبود اِلَّآ اَنْتَ : تیرے سوا سُبْحٰنَكَ : تو پاک ہے اِنِّىْ : بیشک میں كُنْتُ : میں تھا مِنَ : سے الظّٰلِمِيْنَ : ظالم (جمع)
(مسلمانو) تمہارا یہ مذہب ہے وہی ایک مذہب اور میں تمہارا مالک ہوں مجھ ہی کو پوجو (اور کسی کی پرستش نہ کرو
8 ۔ جس میں کسی نبی اور کسی شریعت کا اختلاف نہیں ہے سو اسی کو اختیار کرنا اور اسی پر قائم رہنا تمہیں واجب ہے۔ مراد ہے مذہب توحید یعنی اسلام… یہاں ” امۃ “ کے معنی دین یا مذہب کے ہیں جیسا کہ سورة زخف (آیت 22) میں ہے۔ ” انا وجدنا اباونا علیٰ امۃ “ کہ ہم نے اپنے آبا و اجداد کو ایک امت (یعنی دین) پر چلتے پایا۔ (قرطبی، شوکانی)
Top