Ahsan-ut-Tafaseer - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
اور جو لوگ (خدا کے بارے میں) بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہے جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
16۔ 22۔ اوپر فرمایا تھا کہ جو حکم اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کو اور تم کو اللہ کی وحدانیت کے پھیلانے کا دیا ہے اے رسول اللہ کے اس کے موافق لوگوں کو نصیحت کرو ان آیتوں میں فرمایا جو لوگ اس نصیحت کے وقت اللہ کے حکم پر جھگڑا ڈالتے ہیں اور اتنا نہیں سمجھتے کہ ان کے بھائی بندوں اور قوم میں سے جس کسی نے اس نصیحت کو غور سے سنا وہ راہ راست پر آگیا اس لئے ایسے ضدی لوگوں کا جھگڑا کچھ التفات کے قابل نہیں ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہے اور یہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب کے لائق ہیں۔ صحیح بخاری 3 ؎ و مسلم میں نعمان بن بشیر سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے کم عذاب والے شخص کو آگ کی جوتیاں پہنا دی جائیں گی جس سے اس شخص کا بھیجا کھل جائے گا اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جن لوگوں کے حق میں اس دن اللہ تعالیٰ نے سخت عذاب کا وعدہ فرمایا ہے ان کا کیا حال ہوگا۔ معتبر سند سے بیہقی وغیرہ میں عبد اللہ بن مسعود کا قول ہے کہ جس طرح نماز روزہ اور سب عبادتیں آسمانی کتابوں میں کے ذریعہ سے بندوں پر اللہ کی امانتیں ہیں اسی طرح ترازو کے ذریعہ سے پورا تولنا بھی اللہ کی ایک امانت ہے اس قول سے قرآن کے ساتھ ترازو کے ذکر کا مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ جس طرح ترازو سے ہر چیز کی تول معلوم ہوجاتی ہے اسی طرح قرآن سے حق بات معلوم ہوجاتی ہے اس پر بھی قرآن کی آیتوں میں جو لوگ جھگڑا نکالتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں۔ جب اللہ کے رسول اپنی نصیحت میں قیامت کا ذکر کرتے تھے تو مشرکین مکہ اس میں زیادہ جھگڑتے اور یہ کہتے تھے کہ آخر قیامت کب آئے گی اسی کے جواب میں فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے اس لئے یہ لوگ مسخرا پن کے طور پر گھڑی گھڑی قیامت کے آنے کا حال پوچھتے ہیں جن لوگوں کے دل میں قیامت کے آنے کا یقین ہے وہ تو قیامت کے آنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم نہیں کہ ان کا خاتمہ کیسا اور اس خاتمہ کے موافق ان کا انجام قیامت کے دن کیا ہوگا۔ پھر فرمایا قیامت کے آنے کا وقت سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں اس واسطے اے رسول اللہ کے تم کو کیا خبر ہے کہ شاید قیامت کا آنا قریب ہو یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں جو قیامت کے منکر اور مسخرا پن کے طور پر اس کے آنے کا وقت گھڑی گھڑی تم سے پوچھتے ہیں کیونکہ اصلی قیامت کے آنے اور تمام دنیا کے اجڑ جانے کا ان لوگوں کو کیا انتظار ہے ان میں سے جو کوئی مرے گا اس کی قیامت تو مرتے ہی اس کے سامنے آجائے گی اور جب ان کے بڑے مرگئے تو یہ لوگ بھی ایک دن ضروری مریں گے۔ مسند امام 1 ؎ احمد اور ابو دائود کے حوالہ سے حضرت عائشہ اور براء بن العازب کی صحیح حدیثیں ایک جگہ گزر چکی ہیں کہ منکر نکیر کے سوال اور مردہ کے جواب کے بعد نیک لوگوں کو جنت کا اور بد لوگوں کو دوزخ کا ٹھکانا دکھا کر فرشتے یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانے میں رہنے کے لئے قیامت کے دن تم لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا نیک لوگ اپنے جنت کے ٹھکانے کو دیکھ کر ایسے خوش ہوتے ہیں کہ قیامت کے جلدی قائم ہونے کی ہر وقت دعا مانگتے رہتے ہیں اور بد لوگ اپنے دوزخ کے ٹھکانے کو دیکھ کر ایسے خوف زدہ ہوجاتے ہیں کہ وہ قیامت کے جلدی نہ قائم ہونے کی ہر وقت التجا کرتے ہیں۔ آیتوں میں یہ جو ذکر تھا کہ یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں جو مسخرا پن سے اصلی قیامت کے آنے کا وقت گھڑی گھڑی پوچھتے ہیں اس کا مطلب ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے جس کا حاصل وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ ان لوگوں کو اپنی گمراہی کے سبب سے اصلی قیامت کی کیا جلدی ہے ان کی قیامت تو ان کے مرتے ہی اس طرح ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی کہ پھر اصلی قیامت کے جلدی قائم نہ ہونے کی ان کو التجا کرنی پڑے گی۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو موسیٰ اشعری کی حدیث ایک جگہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون بردبار ہوسکتا ہے لوگ شرک کرتے ہیں اور وہ ان کے رزق ان کی صحت کے انتظام میں خلل نہیں ڈالتا۔ آیتوں میں یہ جو ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے کہ اس نے فرمانبردار نافرمان سب کے رزق کا انتظام برقرار رکھا ہے ورنہ وہ ایسا زور آور زبردست ہے کہ پچھلی امتوں کی طرح حال کے نافرمان لوگوں کو ایک دم میں ہلاک کرسکتا ہے۔ اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آجاتا ہے۔ اب آگے فرمایا یہ اللہ کے احکام کو جھٹلاتے ہیں عقبیٰ کی جزا و سزا کو مسخرا پن میں اڑا دیتے ہیں اس لئے اپنے خیال میں یہ لوگ جو نیک کام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ سب اکارت ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں تو اس نیک کام کا بدلہ دس سے لے کر سات سو تک اور اس سے بھی زیادہ مقرر ہے جو نیک کام اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف شیطان نے ان لوگوں کے لئے جو ایک راہ ڈال دی جس کو یہ لوگ اپنا دین سمجھتے ہیں اور اسی غلط راہ کے کاموں کو یہ لوگ نیک کام جانتے ہیں۔ ایسے کاموں کا بارگاہ الٰہی سے کچھ اجر ملنا تو درکنار وہ کام تو اس قابل ہیں کہ اگر بارگاہ الٰہی میں عذاب کا وقت مقرر نہ ہوتا تو اب تک کسی قسم کا عذاب آ کر یہ لوگ ہلاک ہوگئے ہوتے لیکن مصلحت الٰہی کے موافق بعض ایسے لوگوں کو دنیا میں کوئی عذاب نہ بھی آتا تو عقبیٰ میں ایسے لوگوں کے لئے جو سخت عذاب اور فرمانبردار لوگوں کے لئے جو جنت کی نعمتیں ہیں وہ دیکھنے کے قابل ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم اور ترمذی 1 ؎ کے حوالہ سے انس بن مالک اور ابوذر کی روایتیں ایک جگہ گزر چکی ہیں جن میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا دوزخ کے عذاب کا پورا حال جو مجھ کو معلوم ہے اگر اس کو میں بیان کر دوں تو لوگ گھر بار چھوڑ کر جنگل کو نکل جائیں اور سوا رونے کے اور کچھ کام نہ کریں۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت کی حدیث قدسی بھی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نیک بندوں کے لئے جو جو نعمتیں جنت میں پیدا کی گئی ہیں نہ وہ کسی نے آنکھوں سے دیکھیں نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل میں ان کا خیال گزر سکتا ہے۔ ان حدیثوں سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ دوزخ کے عذاب اور جنت کی نعمتوں کی پوری تفسیر انسان کی طاقت سے باہر ہے۔ (2 ؎ صحیح مسلم باب فی الکفار ص 374 ج 2 و صحیح بخاری باب الصبر والاذی ص 901 ج 2۔ ) (1 ؎ جامع ترمذی باب قول النبی ﷺ لو تعلمون ما اعلم الخ ص 66 ج 2 و الرقاق باب لو تعلمون ما اعلم الخ ص 96 ج 2۔ ) (2 ؎ صحیح بخاری ماجاء صفۃ الجنۃ الخ ص 460 ج 1۔ )
Top