Al-Quran-al-Kareem - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
اور جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں، اس کے بعد کہ اس کی دعوت قبول کرلی گئی، ان کی دلیل ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر بڑا غضب ہے اور ان کے لیے بہت سخت سزا ہے۔
(1) والذین یحآجون فی اللہ من بعد …:”’ احضۃ“ ”’ حص یدحص دحضا ودخوضا (ف)”حضت الحجۃ“ دلیل باطل ہونا اور ”’ حضت الرجل“ پاؤں کا پھسل جانا۔ ”حجۃ“ کا معنی جھگڑا بھی ہے اور دلیل بھی۔ پچھلی آیت میں فرمایا :(لاحجۃ بیننا وبینکم) کہ ”ہمارے درمیان اور تمہارے دریمان کوئی جھگڑا نہیں، کیونکہ جو بات حق تھی وہ ہم نے تمہیں پہنچا دی، اب جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں، اس آیت میں فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کی بات قبول کرلی گی، اس کا حق ہونا واضح ہوگیا ، حتیٰ کہ بہت سے سمجھ دار لوگ اسے قبول کرچکے اور بہ سے دل میں تسلیم کرچکے ہیں تو لوگ اب بھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں خواہ مخواہ جھگڑ رہے ہیں اور اپنے خیال میں بڑی مضبوط دلیلیں لا رہے ہیں کبھی اس کی توحید میں بحث کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(اجعل الالھۃ الھا واحدا) (ص : 5) ”کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا ؟“ کبھی اس کی دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کے بارے میں جھگڑتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(من یحی العظام وھی ربیم) (یٰسین : 88) کون ہڈیوں کو زندہ کرے گا، جب کہ وہ بوسیدہ ہوں گی ؟“ کبھی اس کے انسان کو رسول بنا کر بھیجن کے بارے میں جھگڑتے ہیں، فرمایا :(وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام و یمشی فی الاسواق) (الفرقان : 8)”اور انہوں نے کہا اس رسول کو کیا ہے کہ کھانا کھاتا ہے اور باز اورں میں چلتا پھرتا ہے۔“ کبھی اس کے شرکاء بنانے کے جوا ز میں اپنے معبودوں کو اللہ کے ہاں سفارشی اور اس کیق ریب کرنے والے قرار دیتے ہیں، فرمایا :(ھولاء شفعآؤنا عند اللہ) (یونس : 18) ”یہ لوگ اللہ کے ہاں ہمارے سفاشریہیں۔“ اور فرمایا :(مانعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی) (الزمر : 3)”ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لئے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں۔“ ان کی مزعومہ یہ اور اس جیسی سب دلیلیں اللہ تعالیٰ کے ہاں باطل اور بےکار ہیں، انھیں اس جھگڑے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ (2) وعلیھم غضب : ”غضب“ پر تنوین تعظیم کی ہے، یعنی ان پر بھاری غضب ہے۔ (3) ولھم عذاب شدید : جس کا دنیا میں مظاہرہ اہل مکہ پر مسلط خوف، قحط، جنگ بدر اور دوسرے معرکوں م یں ہوا اور جس کی شدت قیامت کے دن نعمان بن بشیر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے قنل فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا :(ان اھون اھل النار عذاباً یوم القیامۃ الرجل توضع فی اخمص قدمیہ جمرۃ یغلی منھا دماغہ) (بخاری، الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار :6561)”قیامت کے دن آگ والوں میں سب سے ہلکے عذاب والا شخص وہ ہوگا جس کے دونوں پاؤں کے تلوؤں میں ایک انگارا رکھا جائے گا، جس سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔“
Top