Tafseer-Ibne-Abbas - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
اور جو لوگ (خدا کے بارے میں) بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہے جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
اور یہود و نصاری جو دین خداوندی میں جھگڑے نکالتے ہیں بعد اس کے کہ وہ کتاب میں مان لیا گیا یا یہ کہ وہ مشرکین ہیں جو کہ اس میں جھگڑے نکالتے ہیں بعد اس کے کہ وہ میثاق کے دن تسلیم کرلیا گیا سو ان کی دشمنی غلط ہے ان پر اللہ کا غصہ اور سخت عذاب ہوگا۔ شان نزول : وَالَّذِيْنَ يُحَاۗجُّوْنَ فِي اللّٰهِ (الخ) ابن منذر نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت اذا جاء نصر اللہ والفتح نازل ہوئی تو مشرکین نے مکہ مکرمہ میں ان مسلمانوں سے کہا جو وہاں متیم تھے کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جماعتوں کی شکل میں داخل ہورہے ہیں تو ہمارے دمیان سے نکلو پھر کیوں یہاں ٹھہرے ہوئے ہو اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی عینی جو لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑے نکالتے ہیں۔ اور عبدالرزاق نے قتادہ سے آیت مبارکہ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ لوگ یہود و نصاری ہیں جو مسلمانوں سے یہ کہا کرتے تھے کہ ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے اور ہمارا نبی تمہارے نبی سے پہلے ہے اور ہم تم سے بہتر ہیں۔
Top