Siraj-ul-Bayan - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
اور جو لوگ اللہ کے بارے میں اس کے بعد کہ خلق اس کو مان چکی تھیں نکالتے ہیں ۔ ان کی حجت (ف 2) ان کے رب کے نزدیک باطل ہے اور ان پر غضب ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
حل لغات : ۔ داحضہ ۔ باطل المیزان ۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو نازل فرمایا ہے اسی طرح اس کی صدقتوں کو تولنے کے لئے معیار مقرر فرمائے ہیں ۔ 2: اہل کتاب بھولے بھالے مسلمانوں سے کہتے تھے ۔ کہ کیوں نہ ہم اور تم ان انبیاء پر متفق ہوجائیں ۔ جن پر تمہارا بھی ایمان ہے اور حضور ﷺ کی نبوت کو جو مختلف فیہ ہے ۔ چھوڑ دیں ۔ اس کا جواب دیا ہے کہ جبکہ حضور ﷺ میں اور گزشتہ انبیاء میں کوئی فرق نہیں ۔ سب کے پیغام میں یکسانی اور وحدت ہے ۔ اور معجزات وخوارق بھی ان کی تائید میں تم دیکھ چکے ہو ۔ تو پھر کیوں نہ ان کی نبوت کو تسلیم کرلیا جائے ۔
Top