Baseerat-e-Quran - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
وہ لوگ جو اللہ کے دین میں اس کے بعد کہ وہ لوگوں میں مقبول ہوچکا ( مان لیا گیا) پھر بھی جھگڑتے نکالتے ہیں تو ایسے لوگوں کی کٹ حجتی اللہ کے نزدیک باطل ہے۔ ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے درد ناک سزا ہے۔
لغات القرآن آیت نمبر 16 تا 19 : استجیب ( قبول کیا گیا ، مان لیا گیا) داحضۃ ( غلط ، جھوٹ ، باطل) المیزان ( تولنے کی چیز، ترازو) مایدری (وہ نہیں جانتا) یستعجل ( وہ جلدی کرتا ہے) مشفقون ( ڈرنے والے) یمارون ( وہ جھگڑتے ہیں) تشریح : آیت نمبر 26 تا 19 : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن حکیم ایک ایسی بر حق کتاب ہے اور غلط اور صحیح بات کو چھانٹ کر رکھ دینے والی ایک ایسی کسوٹی ہے جس کی عظمت اور عدل و انصاف کی تعلیم کے سامنے ہر شخص جھکنے پر مجبور ہے۔ جس کی عظمت دلوں میں بیٹھ چکی ہے اس لئے تم میں سے بہت سے خوش نصیب لوگوں نے اس سچائی کو قبول کرلیا ہے اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں ۔ اس کے بعد فضول بحث و مباحثہ اور جھگڑا پیدا کرنے اور اپنی زبان اور طرز عمل سے لوگوں کو گمراہی کرنا بد نصیبی اور اللہ کے نزدیک غلط ، بےبنیاد اور باطل حرکت ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ یہ کہتے نہ تھکتے تھے کہ ہمارا نبی تمہارے نبی سے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے آئی ہے۔ ہم اولاد ابراہیم (علیہ السلام) ہیں جن کی پیروی کی وجہ سے ہمیں ہر طرح کی برتری اور فضلتیں حاصل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بےبنیاد خیالات کو ان کی خوش گمان قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اب قیامت تک کے لئے وہ دین جسے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے وہی مقبول محبوب دین ہے اس دین کے آجانے کے بعد طرح طرح کی باتیں بنانا ، لڑائی جھگڑے کرنا اور فخر و غرور کی باتیں کرنا اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب اسی دین کے قبول کرنے میں نجات ہے ۔ فرمایا کہ اگر اس سچے دین کے آنے کے بعد بھی وہ لوگ اپنی گمراہی اور جہالت پر قائم رہے تو پھر ان کے برے اعمال ان کو عذاب الٰہی سے نہ بچا سکیں گے۔ اللہ نے اپنے فضل و کرم سے ایک ایسی کتاب عطاء فرما دی ہے جو ہر اعتبار سے حق و صداقت کی روشنی اور حق و باطل کو چھانٹ کر رکھ دینے والی میزان ہے۔ جس کے ذریعہ زندگی کا سچا راستہ اور معاملات میں عدل و انصاف مل سکے گا ۔ یہ کتاب اس ترازو یا ماپنے کے کاٹنے اور ترازو کی طرح ہے جو ہلکی اور بھاری چیز کو ماپ کر بتا دیتی ہے کہ کس چیز کا کتنا وزن ہے کون سی چیز ہلکی اور کون سی چیز بھاری ہے۔ جس طرح مادی چیزوں کو تولنے کے لئے ترازو ہوتی ہے اسی طرح معنوی اور روحانی حقیقتوں کو تولنے کے لئے اللہ نے اپنی کتاب کو نازل کردیا ہے جو خالق اور مخلوق کے تمام حقوق کو ٹھیک ٹھیک متعین اور مقرر کردیتی ہے۔ اسی لئے بعض علماء و مفسرین نے حق سے مراد حقوق اللہ اور میزان سے مراد حقوق العباد کو لیا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف بھی اشارہ کردیا ہے کہ اب لوگوں کی ہدایت کے لئے آخری نبی پر یہ آخری کتاب نازل کی جا رہی ہے اسکے بعد کوئی کتاب نہیں آئے گی۔ اس کے بعد صرف قیامت ہی آئے گی جو لوگوں سے زیادہ نہیں ہے بلکہ قریب ہی ہے۔ جس کے آنے میں شک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو لوگ قیامت کے متعلق جلدی مچانے والے ہیں انہیں تو اس ہولناک دن سے ڈرنا چاہیے کیونکہ وہاں انسان کے نیک اعمال ہی کام آئیں گے۔ فرمایا کہ قیامت کے آنے میں شک کرنے والے گمراہی میں دور جا پڑے ہیں ۔ اگر وہ دین اسلام کی سچائیوں کو قبول کرلیں اور جس طرح اہل ایمان قیامت کے آنے پر پورا یقین رکھتے ہیں وہ بھی اس کا یقین کرلیں تو وہ اللہ کی رحمتوں کے مستحق بن جائیں گے۔ وہ اللہ جو اپنے بندوں پر نہایت مہربان اور شفیق ہے اور انسانوں کی تمام ضروریات سے با خبر ہے اور وہ کائنات میں ہر طرح کی قوتوں اور طاقتوں کا مالک ہے وہی سب کو رزق دیتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کس کو کب اور کتنا سمجھ دینا چاہیے۔ کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔ اسی ذات سے تعلق انسان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
Top