Mualim-ul-Irfan - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
اور وہ لوگ جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کے بارے میں بعد اس کے کہ اس کی بات کو قبول کیا گیا ۔ ان کی دلیل کمزور ہے ان کے رب کے نزدیک اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے شدید عذاب ہے
ربط آیات گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت اور جزائے عمل اور خاص طور پر کتاب کا ذکر فرمایا اور اپنے پیغمبر کی زبان سے کہلوایا کہ میں اس پر ایمان لایا ۔ دراصل گزشتہ آیت میں اللہ نے دین کے دس اصول بیان فرمائے ہیں یعنی دعوت الی الدین ، استقامت علی الدین ، خواہشات کا عدم اتباع ، کتب سماویہ پر ایمان قیام عدل ، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ، اعمال کا بدلہ ، قیامت کا اجتماع اور رجوع الی اللہ عدم تنازعات اب ان آیا ت میں بھی کتاب الٰہی اور قیامت کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کی گئی ہیں۔ دین کے خلاف کمزوری ارشاد ہوتا ہے والذین یحاجون فی اللہ من بعدی ما استجیب لہ اور وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے دین ، توحید یا کتاب کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں ، بعد اس کے کہ اللہ کی بات کو قبول کرلیا گیا ہے یعنی بعض سمجھدارلوگوں پر دلائل واضح ہوچکے ہیں اور وہ اللہ کی توحید اور اس کی کتاب پر ایمان لا چکے ہیں ۔ اس کے باوجود بعض لوگ مسلسل انکار کر رہے ہیں اور حجت بازی سے کام لے رہے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا حجتھم دا حضۃ عند ربھم ان کی دلیل ان کے پروردگار کے نزدیک کمزور ہے۔ داحضۃ کا لغوی معنی پھسلنا ہوتا ہے جیسے کوئی شخص گارے یا دلدل میں پھسل جاتا ہے مطلب یہ کہ ان کا یہ جھگڑا اور دلیل پھسلنے والی یعنی بالکل کمزور ہے ، ان کے پاس کوئی پکی دلیل نہیں ہے جو ان کے باطل اعتقاد کے حق میں پیش کی جاسکے۔ فرمایا چونکہ یہ لوگ جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں وعلیھم غضب اور ان پر اللہ کا غضب اور ناراضگی ہے کیونکہ یہ حق کو ٹھکرا رہے ہیں اور محض حجت بازی کی بناء پر حق کو تسلیم نہیں کرتے۔ ولھم عذاب شدید اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ اس عذاب کے مستحقین میں مشرک اور اہل کتاب دونوں شامل ہیں کیونکہ دونوں اپنی کٹ حجتی سے دین حق کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں ۔ نزول کتاب اور میزان اللہ نے کتاب کے متعلق فرمایا اللہ الذی انزل الکتب بالحق اللہ کی ذات وہ ہے جس نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ۔ اس کتاب کا سارا پروگرام حق و صداقت پر مبنی ہے اور اس میں کسی قسم کے باطل کی کوئی گنجائش نہیں جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ ( حم السجدہ : 42) نہ اس کے گزشتہ ادوار کے واقعات کے بیان میں کوئی غلط بات ہے اور نہ آئندہ پیش آنے والے حالات وواقعات غلط ثابت ہو سکتے ہیں ۔ اللہ نے اس کتاب کو مکمل حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے اور اس کے ساتھ دوسری چیز والمیزان یعنی میزان کو بھی نازل کیا ہے ۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ میزان سے مراد عام ترازو بھی ہو سکتا ہے کہ جس کے ذریعہ ماپ تول میں انصاف قائم کیا جاتا ہے تا کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ سورة الرحمن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے وَالسَّمَآئَ رَفَعَھَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِِ وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ اللہ نے آسمان کو بلند کیا اور ترازو قائم کیا یہ کہ ترازو میں حد سے تجاوز نہ کرو اور وزن کو انصاف کے ساتھ درست کرلو اور تول میں کمی نہ کرو ، اسی طرح سورة الطففین میں ماپ اور تول میں کمی کی مذمت بیان کی گئی ہے واذا کالو ھم او وزنوھم یخسرون تو گویا ایک میزان تو یہ ہے جس کے ذریعے تو لا ماپا جاتا ہے اور جس کے متعلق فرمایا کہ ماپ اور تول میں کمی نہ کرو ۔ ایک موقع پر حضور ﷺ بازار تشریف لے گئے ۔ آپ نے تاجروں کو خطاب فرمایا ، اتجار کے گروہ ! قد ولیتم امرین ھلکت فیہ الامر السالفۃ قبلکم ( ترمذی) تمہیں دو چیزوں کا ذمہ دار بنایا گیا ہے جن کی وجہ سے تم سے پہلے کئی امتیں تباہ ہوئیں ، فرمایا دو چیزیں المکیال والمیزان ایک ماپ ہے اور دوسری تول جب ان قوموں نے ماپ اور تول میں کمی کی تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ اگر تم بھی انہیں کے نقش قدم پر چلو گے ، تو تمہارا حشر بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا ۔ بہر حال ترازو سے یہ مادی اشیاء گز ، ہیٹر ، کلو گرام ، من ، سیر ، لیٹر وغیرہ بھی مراد ہو سکتی ہیں اور اس سے عقل سلیم بھی مراد ہو سکتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے لوگ اچھی اور بری چیز میں امتیاز کرسکتے ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ میزان سے مراد اخلاق ہے کہ اچھا اخلاق بھی ترازو کی مانند ہوتا ہے۔ جو ہر چیز کو پرکھ سکتا ہے ۔ اسی طرح بعض اصحاب میزان سے مراد عدل لیتے ہیں ۔ اللہ نے انصاف کو بھی ایک میزان قرار دیا ہے اور اسے گزشتہ آیت میں مذکورہ دین کے دس اصولوں میں شمار کیا ہے وامرت لا عدل بینکم (آیت : 15) اور مجھے حکم دیا گیا کہ میں تمہارے درمیان عدل کو قائم کروں۔ غرضیکہ بعثت انبیاء ، نزول کتب ، ظاہری اور باطنی حواس کی درستگی ، عقل سلیم اور عدل و انصاف سب انسانی رہنمائی کے لیے وسائل ہیں ۔ یہ تمام ذرائع مہیا ہونے کے باوجود اگر لوگ ، توحید ، کتاب اور رسالت کا انکار کرتے ہیں تو تعجب انگیز بات ہے۔ وقوع قیامت کا علم منکرین قیامت تمسخر کے طور پر قیامت کے بارہ میں پوچھتے تھے متی ھذالوعدان کنتم صدقین ( الملک : 25) اگر تمہیں یقین ہے کہ قیامت ضرور برپا ہوگی تو بتلائو کہ وہ کب واقع ہوگی ۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا وما یدریک لعل الساعۃ قریب تمہیں کیا خبر ، شاید کہ قیامت قریب ہی ہو ۔ جو چیز آنے والی ہے وہ بہر حال قریب ہے کیونکہ اس نے بالآخر آنا ہے اور جو چیز گزر جاتی ہے وہ بعید ہوجاتی ہے کیونکہ اس کے واپس آنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا ۔ اما م ابن عربی فرماتے ہیں کہ قیامت کی دو قسمیں ہیں یعنی قیامت صغریٰ اور قیامت کبری ، بڑی قیامت تو اپنے وقت پر اجتماعی طور پر سب کے لیے آئیگی اور اس کے وقوع کے وقت کا علم اللہ نے کسی کو نہیں دیا ۔ البتہ قیامت صغریٰ انسان کے ہر وقت قریب ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے من مات فقد قامت قیامۃ جو مر گیا اس کی تو قیامت واقع ہوگئی کیونکہ قبر عقبیٰ کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے جس میں انسان موت کے فوراً بعد پہنچ جاتا ہے چونکہ انسان کو اپنی موت کے وقت کا علم نہیں ہے ۔ اس لیے یہ قیامت صغریٰ تو بہر حال ہی قریب ہے۔ فرمایا یستعلجل بھا الذین لا یومنون بھا قیامت کے لیے وہی لوگ جلدی کرتے ہیں جو اس پر ایمان ہی نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ قیامت کی ہولناکیوں سے یکسر بےفکر ہیں۔ کھیل تماشے اور معاصی میں انہماک رکھتے ہیں ، اس لیے ازراہ تمسخر کہتے ہیں کہ قیامت اگر آنی ہے تو پھر آ کیوں نہیں جاتی ۔ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو ابھی قیامت کو لے آئو اور ہمیں تباہ کر کے رکھ دو ۔ اسی لیے فرمایا کہ جو لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے وہی اس کی جلد آمد کو طلب کرتے ہیں ۔ اس کے بر خلاف والذین امنوا مشفقون منھا جو لوگ قیامت پر یقین رکھتے ہیں وہ اس سے ڈراتے بھی ہیں ۔ انہیں ہر وقت فکر رہتی ہے کہ پتہ نہیں آگے کیا صورت حال پیش آئے گی ۔ ظاہر ہے کہ جس شخص کو قیامت کے وقوع کا خوف ہوگا وہ اس کے لیے تیاری بھی کرے گا ۔ اور آگے کے لیے نیکی کا کچھ سامان پیدا کریگا ۔ نیز کفر ، شرک اور معاصی سے پرہیز کریگا ، کیونکہ اسے محاسبہ اعمال کی منزل نظر آتی ہوگی ۔ ایسے ہی ایمان داروں کے متعلق اور ویعلمون انھا الحق وہ جانتے ہیں کہ قیامت بر حق ہے ۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور یہ ضرور واقع ہو کر رہے گی اہل ایمان کو قیامت کا اتنا ہی یقین ہوتا ہے جتنا خود اپنے وجود کا جس طرح کوئی شخص اپنی پیدائش اور اپنی ذات کا انکار نہیں کرسکتا ۔ اسی طرح وہ قیامت کی صداقت کا بھی انکار نہیں کرسکتا ۔ اللہ کا فرمان ہے انما توعدون لواقع ( المرسلات : 7) جس قیامت کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے ۔ اس دن ہر انسان کو اپنے اعمال کا بھگتان کرنا ہوگا ۔ فرمایا الا ان الذین یمارون فی الساعۃ لفی ضلل بعید آگاہ رہو کہ جو لو گ قیامت کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں یعنی اس کے وقوع میں شک و شبہ کا اظہار کرتے ہیں وہ حق سے دور گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اب ان کے راہ راست پر آنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔ صفات باری تعالیٰ آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ اور تصرف کا تذکرہ فرمایا جا رہا ہے ارشاد ہوتا ہے اللہ لطیف بعبادہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی کرنے والا ہے یہ اس کی نرمی کا نتیجہ ہے کہ وہ ہر گناہ گار کو فوراً نہیں پکڑتا بلکہ دیتا رہتا ہے ۔ ابن ماجہ اور ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لو کانت الدنیا تعدل عند اللہ جناع بعوضۃ ما سقی کافرا منھا شربۃ ماء اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی قدروقیمت مچھر کے ایک پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کا ذکر ایک گھونٹ پانی بھی عطا نہ کرتا ۔ اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ انکار کرنیوالوں پر بھی نرمی کرتا ہے اور انہیں اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔ لطیف کا معنی نرمی کرنے والا بھی آتا ہے اور باریک بین بھی یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ذرہ ذرہ حالات سے واقف ہے۔ وہ خالق اور مالک ہے الا یعلم من خلق وھو الطیف الخبیر ( الملک : 4) کیا وہ نہیں جائے گا جس نے پیدا کیا ؟ وہ تو بڑا ہی باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی مہربان ہے یرزن من یشاء وہ روزی دیتا ہے جس کو چاہے اور جس قدر چاہے بعض اوقات نافرمانوں کو بہت زیادہ عطا کرتا ہے جب کہ ایمان اور نیکی والوں کو تنگی میں رکھتا ہے بعض اوقات نیکو کاروں کو بھی رزق سے وافر حصہ عطا کرتا ہے۔ رزق کی تقسیم اس کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہوتی ہے جس کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا فرماتا وھو القوی العزیز وہ قوت کا سر چشمہ یعنی بہت زیادہ طاقتور والا اور غالب اور زبردست بھی ہے۔ اس کے حکم کو کوئی ٹال نہیں سکتا ، نہ کوئی اس کی کسی سکیم کو ناکام بنا سکتا ہے۔ اس کی تدبیر تمام تدابیر پر غالب ہے ۔ صاحب معارف القرآن مولانا مفتی محمد شفیع (رح) نے حضرت مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (رح) کے حوالے سے لکھا ہے کہ جو شخص اس آیت کا اخلاص کے ساتھ روزانہ ستر بار ورد کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے روزی کا سامان بہم پہنچاتا رہے گا ۔
Top