Jawahir-ul-Quran - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
اور جو لوگ جھگڑا ڈالتے ہیں16 اللہ کی بات میں جب لوگ اس کو مان چکے ان کا جھگڑا باطل ہے ان کے رب کے یہاں اور ان پر غصہ ہے اور ان کو سخت عذاب ہے
16:۔ ” والذین یحاجون “ یہ ایک سوال کا جواب ہے کہ جب بعد کے لوگوں نے پہلے لوگوں کی تحریرات کو پڑھا اور گمراہ ہوگئے، تو کہ وہ اس معاملے میں معذور نہیں ہوں گے۔ فرمایا وہ معذور نہیں ہیں، ان کا یہ عذر اللہ کے نزدیک ساقط اور مردود ہے، فی اللہ ای فی توحید اللہ۔ ان کا یہ عذر قبول نہ ہونے کی دو دلیلیں بیان کی گئی ہیں۔ دلیل اول ” من بعد ما استجیب لہ “ اس مسئلے کو تو علماء اہل کتاب بھی مان چکے ہیں، مراد وہ علماء ہیں جو اسلام لا چکے تھے تو علماء و ثقات کا اسے مان لینا اس کے حق ہونے کی دلیل ہے، تو ان لوگوں نے ان باغیوں اور گمراہوں کی بات کیوں مانی، ان علماء ثقات کے نقش قدم پر کیوں نہیں چلے ؟ جب ان کے حق پرست علماء مان چکے تو انکا انکار محض مکابرہ ہے۔ من بعد ما استجاب لہ اھل الکتاب بان اقروا بنبوتہ واستفتحوا بہ (بیضاوی) ۔ ایسے لوگوں پر جو ایسی حجت واضحہ کے باجود نہیں مانتے، اللہ کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت ترین عذاب تیار ہے۔ تائید (1) اولم یکن لہم ایۃ ان یعلمہ علمؤا بنی اسرائیل (شعراء رکوع 11) (2) الذین اتینہم الکتب یتلونہ حق تلاوتہ اولئک یومنون بہ (بقرہ رکوع 14) ۔ دلیل ثانی ” اللہ الذی نزل الخ “ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی عظیم الشان کتاب نازل فرما دی ہے جس میں حق (مسئلہ توحید اور دیگر ضروریات دین) کو خوب واضح اور روشن کر کے بیان کردیا گیا ہے اور ایک ایسی شریعت نازل فرما دی ہے، جو حق و باطل، عدل و انصاف اور تمام حقوق کیلئے جو ترازو ہے، تو ان لوگوں نے اس کتاب کی طرف کیوں توجہ نہ کی اور اس میں غور و فکر کر کے اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کیوں نہ کی ؟ اس لیے ان کا عذر قابل قبول نہیں۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کا یہ شبہہ اور عذر قبول نہ ہوا کہ گوسالہ سامری آواز کرتا تھا۔ چناچہ ارشاد فرمایا ” الم یروا انہ ایکلمہم ولا یھدیہم سبیلا اتخذوہ وکانوا ظلمین (اعراف رکوع 18) ۔ اسی طرح آج بھی اگر کوئی عبارت یا روایت مسئلہ توحید کے خلاف مل جائے تو حجت نہیں ہوگی اور گوسالہ سامری کی آواز سے زیادہ اس کی حیثیت نہیں ہوگی۔
Top