Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
اور جو لوگ اللہ کے باب میں جھگڑے نکالتے ہیں، بعد اس کے کہ اس کو مان لیا گیا، ان کی حجت ان کے پروردگار کے نزدیک باطل ہے اور ان پر غضب (نازل ہونے والا) ہے اور ان کے لئے عذاب سخت ہے،21۔
21۔ فی اللہ یعنی اللہ کے دین و شریعت کے باب میں۔ (آیت) ” من بعد مااستجیب لہ “۔ لہ میں ضمیر اللہ یا اس کے دین کی طرف ہے۔ اے من بعد ما استجاب الناس للہ عزوجل اولدینہ ودخلوفیہ (روح) (آیت) ” حجتھم ...... ربھم “۔ اس بطلان حجت کا ظہور کامل حشر میں ہوگا۔ (آیت) ” یحآجون فی اللہ “۔ یعنی حق تعالیٰ کے دین حق کے باب میں جھگڑا مسلمانوں سے نکالتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” یحآجون ..... لہ “۔ فقہاء نے باشارۃ النص اس سے یہ نکلا ہے کہ اجماع امت کا انکار ضلالت ہے۔
Top