Anwar-ul-Bayan - Hud : 35
وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
وَرَبُّكَ : اور تمہارا رب يَخْلُقُ : پیدا کرتا ہے مَا يَشَآءُ : جو وہ چاہتا ہے وَيَخْتَارُ : اور وہ پسند کرتا ہے مَا كَانَ : نہیں ہے لَهُمُ : ان کے لیے الْخِيَرَةُ : اختیار سُبْحٰنَ اللّٰهِ : اللہ پاک ہے وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا يُشْرِكُوْنَ : اس سے جو وہ شریک کرتے ہیں
اور آپ کا رب جسے چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ ان لوگوں کو چن لینے کا کوئی حق نہیں ہے، اللہ پاک ہے اور اس سے برتر ہے جو یہ لوگ شرک کرتے ہیں
اگر اللہ تعالیٰ رات یا دن کو ہمیشہ باقی رکھتے تو وہ کون ہے جو اس کے مقابلہ میں رات یا دن لاسکے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات جلیلہ اور قدرت کاملہ کے مظاہر بیان فرمائے جن میں بندوں پر بھی امتنان ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا (وَ رَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ ) (آپ کا رب جو چاہے پیدا فرمائے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس میں ولید بن المغیرہ کی بات کا جواب دیا ہے جو اس نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو رسول بھیجنا ہی تھا تو مکہ اور طائف کے شہروں میں سے کسی بڑے آدمی کو بھیجنا چاہیے تھا (یعنی جو اس کے ذہن میں بڑا تھا) اہل دنیا دنیا داروں ہی کو بڑا سمجھتے ہیں اس لیے اس نے ایسی بات کہی اور اس کا مقصد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا انکار کرنا تھا اسی کو سورة زخرف میں یوں بیان فرمایا ہے (وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ ) ۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ مذکورہ بالا آیت یہودیوں کے جواب میں نازل ہوئی۔ انہوں نے کہا تھا کہ محمد ﷺ کے پاس وحی لانے والا فرشتہ جبرائیل کے علاوہ کوئی دوسرا فرشتہ ہوتا تو ہم ان پر ایمان لے آتے اور ان لوگوں کو جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ ہی جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے۔ اس نے سارے نبیوں کے بعد خاتم النبیین بنانے کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو چن لیا۔ اور سب فرشتوں میں سے وحی بھیجنے کے لیے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو چن لیا۔ اس پر اعتراض کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں اور حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے پیدا فرمائے اور جسے چاہے اپنی اطاعت کے لیے چن لے (ذکر ذلک القرطبی (رح) فی تفسیرہ) اور بعض حضرات نے یختار کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس حکم کو چاہتا ہے پسند فرماتا ہے اور اپنے نبی ﷺ کے ذریعہ نازل فرما دیتا ہے۔ پہلے جملہ میں یہ بتایا کہ تکوینی امور میں بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں اور تشریعی اختیارات میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ آیت کریمہ کے عموم لفظی میں یہ سب باتیں داخل ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لیے جسے چاہا، چن لیا۔ اور جن حضرات کو نبوت سے سر فراز فرمایا ان میں بھی آپس میں ایک دوسرے کو فضیلت دی۔ بعض کو اولو العزم بنایا اور بعض کو بہت بڑی امت عطا فرمائی، اور بعض پر ایمان لانے والے تھوڑے ہی سے تھے۔ بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) پر ایک شخص بھی ایمان نہیں لایا۔ حضرت ابراہیم کو خلیل اللہ بنایا اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو حبیب اللہ بنایا اور معراج کا شرف عطا فرمایا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مناجات کی فضیلت عطا فرمائی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح اللہ کلمۃ اللہ کے ساتھ موصوف فرمایا۔ اسی طرح فرشتوں میں جس کو جو مرتبہ دیا اس میں کوئی دخیل اور شریک نہیں۔ سورة حج میں فرمایا (اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلآءِکَۃِ رُسُلاً وَ مِنَ النَّاسِ ) (اللہ فرشتوں میں پیغام پہنچانے والے چن لیتا ہے اور انسانوں میں سے بھی) ۔ اسی طرح سے جنتوں میں بھی باہم فضیلت ہے۔ جنت الفردوس سب سے اعلیٰ اور افضل ہے آسمانوں میں بھی ایک کو دوسرے پر برتری عطا فرمائی اور زمین کے خطوں میں بھی ایک دوسرے کو فضیلت دی۔ کعبہ شریف کے لیے مکہ معظمہ کو منتخب فرما لیا اور مسجد نبوی میں بھی ایک حصہ کو روضۃ من ریاض الجنۃ قرار دے دیا۔ اور مدینہ منورہ کو رسول ﷺ کا مسکن اور مدفن بنایا۔ جو لوگ اہل علم ہیں ان میں بھی کسی کو بہت زیادہ علم دیا کسی سے دین کی خدمت بہت لی، کسی کو مفسر کسی کو محدث کسی کو مفتی اور فقیہ بنایا، کسی کی طرف بہت زیادہ رجوع عطا فرمایا۔ طلبہ و تلامذہ کی ہزاروں کی تعداد ہوگئی۔ کسی سے بہت بڑا مدرسہ قائم کروا دیا اور اس کی طرف امت کا رجوع کردیا کسی کو کتابیں لکھنے کی توفیق زیادہ دے دی پھر اس کی کتابوں کو مقبولیت عامہ نصیب فرما دی۔ وھلم جرا الی مالا یعد ولا یحصیٰ ۔ (مَا کَانَ لَھُمُ الْخِیَرَۃُ ) (لوگوں کو چن لینے اور اختیار کرنے کا کوئی حق نہیں) اللہ نے جسے چاہا فضیلت دے دی اور جو حکم چاہا بھیج دیا۔ یہ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔ سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ اللہ پاک ہے اور وہ برتر ہے اس سے وہ جو شریک کرتے ہیں۔
Top