Dure-Mansoor - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور جنہوں نے اپنے رب کے حکم کو مانا اور نماز قائم کی اور ان کے کام آپس میں مشورے سے ہوتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں
1:۔ عبد بن حمید (رح) و بخاری (رح) نے الادب میں وابن المنذر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ کسی قوم نے (آپس میں) مشورہ نہیں کیا مگر ان کو ہدایت دی گئی اور ان کا معاملہ درست ہوگیا۔ یہ (آیت ) ’ ’ وامرھم شوری بینہم “ (اور ان کا ہر کام آپس میں مشورہ سے ہوتا ہے) آپس کے صلح و مشورے کی اہمیت : 2:۔ خطیب (رح) نے رواۃ مالک میں علی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ایک ایسا معاملہ جو آپ کے بعد ہم پر آجائے جس کے بارے میں نہ قرآن نازل ہوا اور نہ اس کے بارے میں آپ سے بھی کوئی بات سنی گئی (تو پھر کیا کریں) آپ نے فرمایا اس مسئلہ کے لئے میری امت میں سے ایک عبادت کرنے والے کے پاس جمع ہوجاؤ اور آپس میں اس مسئلے کے بارے میں مشورہ کرو اور تم اس کا فیصلہ نہ کرو ایک آدمی کی رائے سے۔ 3:۔ خطیب (رح) نے رواۃ مالک میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ تم عقل مند آدمی سے رہنمائی طلب کرو تم رہنمائی پاجاؤ گے اور تم اس کی نافرمانی نہ کرو ورنہ ندامت اٹھاؤگے۔ 4:۔ بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو آدمی کسی کام کا ارادہ کرے اس میں مشورہ کرے اور (پھر) فیصلہ کرے تو وہ ہدایت پاجائے گا اور اس کے معاملات درست ہوجائیں گے۔ 5:۔ بیہقی (رح) نے یحییٰ بن ابی کثیر (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان بن داؤد (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے میرے بیٹے اللہ سے ڈرنے کو لازم پکڑ کیونکہ یہ چیز کا مقصود ہے، اے میرے بیٹے تو اس وقت تک کسی کام کا فیصلہ نہ کر یہاں تک کہ تو اپنے مرشد (یعنی رہنما) سے مشورہ نہ کرے کیونکہ دوسرا اس کے برابر نہیں ہوسکتا اگر تو نے ایسا کرلیا تو اے میرے بیٹے تو اس سے رشد کو حاصل کرے گا اپنے پہلے دوست کو لازم پکڑ کیونکہ آخر والا دوست اس کے برابر نہیں ہوسکتا۔
Top