Dure-Mansoor - Al-Hashr : 22
هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ
هُوَ اللّٰهُ : وہ اللہ الَّذِيْ : وہ جس لَآ اِلٰهَ : نہیں کوئی معبود اِلَّا هُوَ ۚ : اس کے سوا عٰلِمُ الْغَيْبِ : جاننے والا پوشیدہ کا وَالشَّهَادَةِ ۚ : اور آشکارا هُوَ الرَّحْمٰنُ : وہ بڑا مہربان الرَّحِيْمُ : رحم کرنے والا
وہی اللہ ہے جس کے لیے سوا کوئی معبود نہیں وہ ظاہر اور چھپی ہوئی چیزوں کو جاننے والا ہے وہ بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
6۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کا اسم اعظم اللہ ہی ہے۔ جنات سے حفاظت کا ذریعہ 7۔ ابن مردویہ نے ابوایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کھجور خشک کرنے کی ایک جگہ بنا رکھی تھی اپنے گھر میں۔ آپ نے اس جگہ کو پایا کہ وہ کم ہوگئی ہے۔ یعنی کھجوریں کم ہوگئی ہیں تو جب رات ہوئی تو آپ نے اسے دیکھا تو ایک آدمی محسوس ہوا۔ میں نے اس سے کہا تو کون ہے ؟ اس نے کہا میں جنات میں سے ایک آدمی ہوں۔ ہم نے اس گھر کا ارادہ کیا۔ ہمارا توشنہ ختم ہوگیا۔ اس لیے ہم نے تمہاری کھجوریں لی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان میں سے کچھ بھی کم نہیں کریں گے۔ ابو ایوب انصاری ؓ نے اس سے فرمایا اگر تو سچا ہے تو مجھے اپنا ہاتھ دکھا اس نے اپنا ہاتھ ان کو دکھایا تو اس پر کتے کے بازوں کی طرح بال تھے۔ ابوایوب ؓ نے اس سے فرمایا جو کچھ تو نے ہماری کھجوروں میں سے لیا ہے وہ تیرے لیے حلال ہیں۔ کیا تو مجھ کو ایسی افضل ترین چیز نہیں بتائے گا کہ جس سے انسان، جن سے پناہ حاصل کرے اس نے کہا یہ آیت سورة حشر کے آخر تک پڑھے۔ 8۔ ابن مرددویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص سورة حشر کی آخری آیات پڑھے گا پھر اس دن یا اس رات مرجائے تو اس کا یہ عمل اس سے ہر خطا کو مٹادے گا۔ 9۔ ابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو حکم فرمایا کہ جب تو اپنے بستر پر سونے لگے تو سورة حشر کی آخری آیات پڑھ لے۔ اور فرمایا اگر تو مرگیا تو شہید ہو کر مرے گا۔ 10۔ ابو علی عبدالرحمن بن محمد النیسابوری نے محمد بن الحنفیہ سے روایت کیا براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے حضرت علی ؓ سے کہا میں آپ سے اللہ کے واسطے اس چیز کا سوال کرتا ہوں کہ مجھے خاص طور پر وہ افضل ترین چیز بتائیے جو آپ کو رسول اللہ ﷺ نے خاص طور پر بتائی۔ اس میں سے جو خاص طور پر جبریل (علیہ السلام) نے آپ کو بتائی۔ اس میں سے جس کے ساتھ رحمن نے ان کو بھیجا۔ تو آپ نے فرمایا اے براء ! جب تو اللہ تعالیٰ سے اسم اعظم کے وسیلہ سے دعا مانگے تو سورة حدید کی پہلی دس آیات اور سورة حشر کی آخری آیات کو پڑھ لے۔ پھر یوں کہہ اے وہ ذات جس کی یہ شان ہے اور اس کے سوا کوئی اور اس طرح نہیں میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے لیے ایسا ایسا کردے۔ یعنی میرا یہ کام کردیجیے۔ اے براء ! اللہ کی قسم ! اگر تو میرے لیے بددعا بھی کرے تو مجھ کو دھنسا دیا جائے۔ 11۔ ابن مردویہ نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے تین مرتبہ پناہ مانگے شیطان سے پھر سورة حشر کی آخری آیات پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ستر ہزار فرشتے بھیجتا ہے جو اس سے انسان اور جنات میں سے شیطانوں کو بھگادیتے ہیں۔ اگر رات ہوگی تو صبح تک اور اگر دن ہوگا تو شام تک ایسا ہوتا ہے۔ 12۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کیا مگر اس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیطان سے دس مرتبہ پناہ مانگے۔ 13۔ احمد والدارمی والترمذی وحسنہ وابن الضریس والبیہقی نے شعب الایمان میں معقل بن یسار ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص نے دس مرتبہ صبح کو اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم پڑا۔ پھر سورة حشر کی آخری تین آیات پڑھیں۔ تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے اس کے ساتھ مقرر فرمادیتے ہیں جو اس پر شام تک رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں اگر وہ اس دن مرگیا تو شہید ہو کر مرے گا اور جس نے شام کے وقت پڑھا تو وہ بھی اسی رتبہ میں ہوگا۔ 14۔ ابن عدی وابن مردویہ والخطیب اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے سورة حشر کی آخری آیات دن میں یا رات میں پڑھیں پھر اس دن میں یا اس رات میں مرگیا تو اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ 15۔ ابن الضریس نے عتیبہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ نے بیان فرمایا جس شخص نے صبح ہوتے ہی سورة حشر کی آخری آیات پڑھیں تو اس نے اسے پالیا جو رات میں اس سے فوت ہوا اور وہ شام تک ہر بلا سے محفوظ رہے گا۔ اور جس نے ان آیات کو شام کے وقت پڑھا تو اس نے اسے پالیا جو دن میں اس سے فوت ہوا۔ اور وہ صبح تک ہر بلا سے محفوظ ہوگا اگر وہ مرگیا تو اس نے اپنے لیے جنت واجب کرلی۔ شہید کا مرتبہ پانے والا 16۔ الدارمی وابن الضریس نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص نے سورة حشر کی آخری تین آیات پڑھیں جب اس نے صبح کی اور اس دن میں وہ مرگیا تو اس پر شہداء کی مہر لگا دی جاتی ہے اور جب اس نے شام کے وقت یہ آیات پڑھیں پھر وہ اسی رات فوت ہوگیا اس پر شہداء کی مہر لگادی جاتی ہے۔ 17۔ الدیلمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم سورة حشر کی آخری آیات میں ہے۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت علم الغیب والشہادۃ کہ وہ غیب اور حاضر کو جاننے والا ہے۔ یعنی ہر چھیپی ہوئی اور ظاہر چیز کو جاننے والا ہے اور المومن۔ امن دینے والا یعنی وہ اپنی مخلوق کو اس سے امان دینے والا ہے کہ وہ ان پر ظلم کرے اور المہیمن سے مراد ہے شاہد۔ 19۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت علم الغیب سے مراد ہے جو ہوگا اور جو کچھ ہونے والا سب کو جانتا ہے۔ القدوس سے مراد ہے کہ فرشتے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ 20۔ عبد بن حمید وابن المنذر اور ابو الشیخ رحمہما اللہ نے العظمہ میں بیان کیا کہ القدوس سے مراد ہے المبارک یعنی برکتیں عطا کرنے والا آیت السلم المومن میں المومن سے مراد ہے اسے امان دینے والا جو اس پر ایمان لایا۔ المہیمن یعنی اس پر شہادت دینے والا العزیز یعنی غالب آنے وال اپنی سزا دینے میں جب وہ انتقام لے آیت الجبار یعنی وہی اپنی مخلوق کو مجبور کرنے والا ہر اس کام پر جو وہ چاہتا ہے اور المتکبر یعنی وہ ہر عیب اور کمزوری سے محفوظ ہے۔ 21۔ ابن المنذر نے زید بن علی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کا نام المومن اس لیے رکھا ہے کیونہ اس نے ایمان والوں کو عذاب سے امان دی ہے۔ 22۔ سعید بن منصور وابن المنذر اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے الجبار بھی ہے کیونکہ وہ مخلوق کو مجبور کرتا ہے اس کام پر جس کا وہ ارادہ کرتا ہے۔
Top