Urwatul-Wusqaa - Al-Hashr : 22
هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ
هُوَ اللّٰهُ : وہ اللہ الَّذِيْ : وہ جس لَآ اِلٰهَ : نہیں کوئی معبود اِلَّا هُوَ ۚ : اس کے سوا عٰلِمُ الْغَيْبِ : جاننے والا پوشیدہ کا وَالشَّهَادَةِ ۚ : اور آشکارا هُوَ الرَّحْمٰنُ : وہ بڑا مہربان الرَّحِيْمُ : رحم کرنے والا
اللہ وہی تو ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہی) چھپے اور کھلے کو جاننے والا ہے وہ بیحد مہربان بہت ہی پیار کرنے والا ہے
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ غیب و حاضر کو جاننے والا ہے 22 ؎ یہ سورة مبارکہ کی آخری تین آیات ہیں جن میں صفات الٰہی کا بیان ہے اور واضح الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ انسانوں کے حق پر ہونا یا نہ ہونے کی یہی کسوٹی ہے کہ خوف ورجاء میں جو شخص اپنے الٰہ حقیقی سے رجوع کرتا ہے وہ حق پر نہیں ہے خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے ؟ اس لیے رب کریم ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اپنا حاجت روا اور مشکل کشا صرف اور صرف اسی کو سمجھے اور اس کے سوا دوسروں کی نفی کرے۔ جو شخص بھی اپنی حاجات و ضروریات کو پکارتا ہے وہ باطل پر ہے کسی نبی ، ولی اور رسول کو پکارے یا کسی ولی ، پیر اور بزرگ کو کیونکہ یہ سب کے سب مخلوق ہیں اور ان میں کوئی بھی نہیں جس کو خالق سمجھا جاسکے۔ وہی اللہ کی ذات ہے جو غائب و حاضر کو جاننے والا ہے ، دراصل یہ غیب محض ہماری وجہ سے غائب ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے غیب و حاضر کی بحث ہی صحیح نہیں ہے اس لیے کہ اس کے لیے سب کا سب حاضر ہے۔ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے اور جہاں بھی کرتا ہے اور جس حالت میں بھی کرتا ہے وہ اس کی حالت ، کیف اور کیفیت سب سے واقف ہے اور پھر یہ بھی کہ وہ اپنی مخلوق کے لیے منبہ رحمت ہے اور رحمت خداوندی ہر وقت انسان کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے بےقرار ہے۔ انسان ذرا رجوع کرے تو اس کو حاصل کرسکتا ہے۔ غور کرو کہ رحمت بھی ہو اور جوش رحمت بھی تو اس سے انسان محروم رہ جائے اس سے کوئی بڑی بد بختی اور بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے رحمن ہونے ہی کے باعث تو دنیا کا سارا نظام چل رہا ہے کہ بڑے بڑے ظالم ظلم کرتے ہیں اور کرتے ہی چلے جاتے ہیں اور وہ ان کو ڈھیل پر ڈھیل دیئے چلے جا رہا ہے اگر وہ رحمن نہ ہوتا تو ان کو ظلم کرنے اور ظلم کر کے بھاگ جانے کی توفیق ہی کیونکر ملتی لنک حقیقت یہ ہے کہ وہ سارے انسانوں ، حیوانوں ، نباتات اور جمادات کا یکساں رب اور یکساں رحمت عام کرنے والا ہے اس لیے ان کو وقت مقرر تک جو اس نے ڈھیل دے رکھی ہے اس لیے وہ ناجائز اور بےجا فائدہ اٹھائے چلے جا رہے ہیں اور اس کے لیے ایک اس نے خاص دن مقرر کردیا ہے کہ ہر ظالم کو اس کے ظلم کا وہ بدلہ چکا دے گا اور اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی پھر کھلی کی کھلی رہ جائیں گی ( اللہ) لفظ اللہ میں وصفی معنی موجود ہیں اور اس اعتبار سے اس کو بھی صفاتی ناموں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس کو اسم ذات تسلیم کرلیا گیا تاکہ اس کو پہچان کے لیے اس کو استعمال کیا جائے۔ اس لیے اس کو اسم ذات کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ( الرحمن) اور (الرحیم) دونوں مبالغے کے وزن ہیں لیکن اس کے باوجود ( رحمن) ابلغ ہے کیونکہ دنیا اور آخرت دونوں کی رحمت کو شامل اور صرف اللہ رب کریم کی مقدس ذات ہی کے لیے مخصوص ہے گویا ( رحمن) کسی دوسرے پر استعمال نہیں ہوتا۔
Top