Asrar-ut-Tanzil - Aal-i-Imraan : 192
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ
لَقَدْ جَآءَكُمْ : البتہ تمہارے پاس آیا رَسُوْلٌ : ایک رسول مِّنْ : سے اَنْفُسِكُمْ : تمہاری جانیں (تم) عَزِيْزٌ : گراں عَلَيْهِ : اس پر مَا : جو عَنِتُّمْ : تمہیں تکلیف پہنچے حَرِيْصٌ : حریص (بہت خواہشمند) عَلَيْكُمْ : تم پر بِالْمُؤْمِنِيْنَ : مومنوں پر رَءُوْفٌ : انتہائی شفیق رَّحِيْمٌ : نہایت مہربان
اے ایمان والو، صبر کرو، ثابت قدم رہو، مقابلے کے لیے تیار رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب رہو۔
شریعت کے حقوق ادا کرنے کے لیے بنیادی ہدایات : یہ اس سورة کی آخری آیت ہے جس میں خاتمہ کلام کے طور پر وہ تمام بنیاد ہدایات جمع کردی گئی ہیں جو شریعت کے حقوق ادا کرنے اور ان حالات و مشکلات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ضروری تھیں جن میں مسلمان گھرے ہوئے تھے۔ یہ ہدایات چار چیزیں اختیار کرنے اور ان پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہنے کے لیے ہیں۔ صبر کی حقیقت : پہلی چیز صبر ہے۔ اس لفظ پر سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم بڑی تفصیل کے ساتھ گفتگو کرچکے ہیں۔ اس لفظ کی اصل روح کسی حق پر اپنے آپ کو مزاحمتوں کے مقابل میں جمائے رکھنا ہے۔ عام اس سے کہ یہ مزاحمتیں خود اپنے اندر سے سر اٹھائیں یا خارج سے حملہ آور ہوں اس خصلت کو پختہ کیے بغیر کوئی شخص کسی چھوٹے سے چھوٹے حق کا بھی حق ادا نہیں کرسکتا۔ ’ مصابرت ‘ کی حقیقت : دوسری چیز مصابرت ہے، مصابرت کے معنی ہیں اپنے حریف کے مقابل میں ثابت قدمی کا مظاہرہ اور اور اس پر اس وصف میں بازی لے جانے کی کوشش کرنا۔ اس چیز کی تاکید اس موقع پر، خاص طور سے اس وجہ سے کی گئی کہ اس مرحلے میں مسلمانوں اور اس کے دشمنوں کے درمیان عملاً مسلح کشمکش شروع ہوچکی تھی اور اس کشمکش میں آخری کامیابی اس گروہ کے لیے مقدر تھی جو اپنے حریف پر استقلال و پامردی کے میدان میں بازی لے جاسکے۔ میدان جنگ میں فتح و شکست کا اصل انحصار تعدد اور اسلحہ پر نہیں بلکہ اخلاق و کردار پر ہوتا ہے۔ ’ مرابطت ‘ کی حقیقت : تیسری چیز مرابطہ ہے۔ مرابطہ، ربط الخیل سے ہے۔ اس کا اصلی ابتدائی مفہوم دشمن کے مقابلے اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے جنگی گھوڑے تیار کر رکھنا ہے۔ اب گھوڑوں کی جگہ ٹینکو اور ہوائی جہازوں نے لے لی ہے اس وجہ سے حالات کی تبدیلی سے اس لفظ کا مفہوم بھی تبدیل ہوجائے گا۔ مصابرت کی ہدایت کے بعد یہ مرابطت کی ہدایت دشمن کے مقابلے کے لیے اخلاقی تیاری کے ساتھ ساتھ مادی تیاری کی ہدایت ہے۔ ’ تقوی ‘ کی حقیقت : چوتھی چیز تقوی ہے۔ اس لفظ پر تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں ہم تفصیلی بحث کرچکے ہیں۔ خدا کے مقرر کردہ تمام حدود وقیود کی اخلاص و خشیت کے ساتھ نگرانی کرنا تقوی ہے۔ یہی چیز تمام دین کا خلاصہ اور مقصود ہے۔ فرمایا کہ مسلمان، یہ چیزیں اختیار کرو تاکہ تم دنیا اور آخرت دونوں میں فلاح پاؤ۔ یہ آخری سطریں ہیں جو آل عمران کی تفسیر میں اس بےمایہ کو لکھنے کی توفیق حاصل ہوئی اللہ تعالیٰ لغزشوں کو معاف فرمائے اور صحیح باتوں کے لیے دلوں میں جگہ پیدا کرے۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
Top