Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Open Surah Introduction
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tadabbur-e-Quran - At-Tawba : 128
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ
لَقَدْ جَآءَكُمْ
: البتہ تمہارے پاس آیا
رَسُوْلٌ
: ایک رسول
مِّنْ
: سے
اَنْفُسِكُمْ
: تمہاری جانیں (تم)
عَزِيْزٌ
: گراں
عَلَيْهِ
: اس پر
مَا
: جو
عَنِتُّمْ
: تمہیں تکلیف پہنچے
حَرِيْصٌ
: حریص (بہت خواہشمند)
عَلَيْكُمْ
: تم پر
بِالْمُؤْمِنِيْنَ
: مومنوں پر
رَءُوْفٌ
: انتہائی شفیق
رَّحِيْمٌ
: نہایت مہربان
” بلاشبہ یقیناً تمہارے پاس تم میں سے ایک رسول آیا ہے جس پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت شاق گزرتا ہے، تمہاری بھلائی کے بارے میں بہت حرص رکھنے والا ہے، ایمان والوں پر بہت شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے۔ “ (128)
فہم القرآن ربط کلام : منافقین کا بار بار بد عہدی کرنا، ہر موقع پر سازشیں کرنا اور نبی اکرم ﷺ کی مجالس میں آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کرنا۔ ایک سے ایک بڑھ کر بدتمیزی اور برا عمل تھا۔ اس کے باوجود نبی اکرم ﷺ ان کے ساتھ بردباری و درگزر کا مظاہرہ فرماتے رہے جس کی یہاں شاندار الفاظ میں تعریف کی گئی اور آپ کو خراج تحسین سے نوازا گیا ہے۔ جہاں تک مخلص مسلمانوں کا معاملہ ہے رسول کریم ﷺ ان کے ساتھ اس قدر کرم فرما اور خیر خواہ تھے کہ آپ اپنے ساتھیوں کی تکلیف کو ان سے بڑھ کر اپنی تکلیف سمجھتے اور صبح و شام اس فکر میں رہتے کہ لوگوں کو کس طرح اصلاح اور فلاح کے راستے پر گامزن کیا جائے۔ آپ ﷺ کے حلم اور بردباری کا عالم یہ تھا کہ آپ اپنے ساتھیوں کی غلطیوں سے صرف نظر فرماتے اور ان کی کوتاہیوں کو معاف کردیا کرتے تھے۔ جہاں تک آپ کی ہمدردی اور خیر خواہی کا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو طبعاً اور فطرتاً ہمدرد اور خیر خواہ پیدا فرمایا تھا۔ مزید یہ کہ آپ نے دنیا کی مشکلات اور مصائب کو براہ راست دیکھا اور اپنے آپ پر برداشت کیا تھا ابھی دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے کہ والد گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ تقریباً چھ سال کے ہوئے تو والدہ ماجدہ مدینہ کے سفر کے دوران انتقال کر گئیں۔ آٹھ سال کے ہوئے تو مشفق اور مہربان دادا جناب عبدالمطلب دنیا سے کوچ کر گئے۔ اس طرح چھوٹی عمر میں آپ نے وہ صدمات برداشت کیے جس کے تصور سے کلیجہ دہل جاتا ہے۔ ان حالات میں جوں جوں عمر مبارک جوانی کے قریب پہنچی تو آپ ﷺ ہر وقت اس سوچ و بچار میں رہتے کہ لوگوں کی اصلاح اور فلاح کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ جب چالیس سال کے ہوئے تو حالت یہ ہوگئی کہ کئی کئی دن تک غار حرا میں بیٹھ کر سوچا کرتے کہ آخر یہ بگڑی ہوئی قوم کس طرح راہ راست پر آئے گی۔ ایک دن غار حرا میں اسی سوچ و بچار میں بیٹھے تھے۔ کہ اللہ کا آخری پیغام آپہنچا۔ جس کا آغاز اس طرح ہوا کہ اللہ کے نام سے ابتدا کیجیے جس نے انسان کو ایک لوتھڑے سے پیدا کیا ہے۔ (العلق : 1۔ 2) آپ جب یہ پیغام لے کر سوئے قوم آئے تو پھر تئیس سال تک اسی غم اور کام میں زندگی گزاردی۔ لوگوں کی اصلاح کی خاطر بڑے بڑے مصائب اٹھائے، مشکلات کا سامنا کیا، طائف میں پتھر کھائے یہاں تک کہ حق اور سچ کی خاطر گھر بار اور وطن چھوڑنا پڑا۔ مدینہ پہنچنے کے بعد منافقوں کی سازشوں اور کفار کے ساتھ بدر، احد، خندق، مکہ اور تبوک کے محاذوں پر معرکے ہوئے، عزیزو اقرباء کی قربانیاں پیش کیں، کاروبار اور ہر قسم کا نقصان اٹھایا مگر لوگوں کی خیر خواہی اور ان کے ساتھ ہمدردی کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ آپ سراپا ہمدرد اور خیر خواہ تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین کے خطاب اور روف و رحیم کے القاب سے نوازا ہے۔ یہاں ہم آپ کی ہمدردی اور خیر خواہی کے تین واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ” حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول محترم ﷺ کو وحی کی ابتدا نیند میں سچے خوابوں سے ہوئی۔ آپ جو بھی خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی مانند سامنے آجاتا۔ پھر آپ تنہائی پسند ہوگئے اور غار حرا میں تنہائی میں وقت گزارنے لگے۔ وہاں آپ عبادت میں مشغول رہتے۔ اپنے اہل و عیال کے پاس واپس آنے سے پہلے آپ کئی کئی راتیں وہاں گزارتے۔ اس عرصہ کے لیے سامان خورد ونوش ساتھ لے جاتے۔ سامان ختم ہونے پر حضرت خدیجہ ؓ کے پاس آتے۔ وہ پھر پہلے کی طرح سامان آپ کے ساتھ کر دیتیں۔ حتّٰی کہ غار حرا میں وحی کا نزول شروع ہوا۔ جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا ” پڑھیے “ آپ نے جواب دیا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ آپ فرماتے ہیں کہ جبریل (علیہ السلام) نے مجھے پکڑ کر اتنا دبایا کہ مجھے سخت تکلیف ہوئی۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا ” پڑھیں “۔ آپ نے جواب دیا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ پھر اس نے دوسری بار اسی طرح زور سے دبایا۔ جس پر میں نے سخت تکلیف محسوس کی۔ پھر چھوڑ دیا اور کہا ” پڑھیں “۔ میں نے جواب دیا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ پھر اس نے مجھے دبوچ لیا اور تیسری بار زور سے دبایا، یہاں تک کہ مجھے بہت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور کہا ” پڑھیں ! اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کی تخلیق کی جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے۔ پڑھیے اور آپ رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا۔ انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔ “ چناچہ رسول اللہ ﷺ اس وحی کے ساتھ واپس لوٹے آپ کا دل گھبرا رہا تھا۔ آپ ﷺ حضرت خدیجہ ؓ کے پاس آئے اور ان سے فرمایا، مجھے کمبل اوڑھا دو ۔ چناچہ انہوں نے آپ کو کپڑا اوڑھا دیا یہاں تک آپ سے خوف کی کیفیت دور ہوگئی۔ پھر آپ نے حضرت خدیجہ ؓ کو سارا ماجرا کہہ سنایا اور فرمایا، مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے۔ انہوں نے تسلی دی کہ ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلۂ رحمی کرتے ہیں، سچی بات کہتے ہیں، دوسروں کے بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاج کی خبر گیری کرتے ہیں، مہمان کو کھانا کھلاتے ہیں اور مصیبت زدہ اور ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں۔ بعد ازاں خدیجہ ؓ آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو خدیجہ ؓ کے چچا زاد بھائی تھے۔ انہوں نے ورقہ سے کہا، اے میرے چچا کے بیٹے ! اپنے بھتیجے کا معاملہ سنیے۔ چناچہ ورقہ نے آپ سے دریافت کیا، اے میرے بھتیجے ! تجھے کیا نظر آتا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے اسے تمام واقعہ کہہ سنایا۔ ورقہ نے کہا، یہ تو وہی فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی دے کر بھیجتا تھا۔ اے کاش ! میں تمہارے عہد نبوت میں جوان ہوتا اور کاش ! میں اس وقت زندہ ہوتا جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی۔ رسول اللہ نے پوچھا، کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے کہا، ہاں ! کیوں کہ جب بھی کسی کو رسالت سے نوازا گیا تو اس کے ساتھ دشمنی کی گئی۔ اور اگر میں اس دن تک زندہ رہا، جب لوگ تمہیں نکالیں گے، تو میں تمہاری بھر پور معاونت کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ بن نوفل زیادہ دیر زندہ نہ رہے اور آپ پر وحی کا سلسلہ کچھ عرصہ کے لیے منقطع رہا۔ “ [ رواہ البخاری : باب کیف کان بدء الوحی ] (عَنْ عُرْوَۃُ أَنَّ عَاءِشَۃَ ؓ زَوْجَ النَّبِیِّ ﷺ حَدَّثَتْہٗ أَنَّہَا قَالَتْ للنَّبِیِّ ﷺ ہَلْ أَتَی عَلَیْکَ یَوْمٌ کَانَ أَشَدَّ مِنْ یَوْمِ أُحُدٍ قَالَ لَقَدْ لَقِیْتُ مِنْ قَوْمِکِ مَا لَقِیْتُ ، وَکَانَ أَشَدُّ مَا لَقِیْتُ مِنْہُمْ یَوْمَ الْعَقَبَۃِ ، إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِیْ عَلَیْ ابْنِ عَبْدِ یَالِیْلَ بْنِ عَبْدِ کُلاَلٍ ، فَلَمْ یُجِبْنِیْ إِلَی مَآ أَرَدْتُ ، فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَہْمُومٌ عَلٰی وَجْہِی، فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلاَّ وَأَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ ، فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ ، فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَۃٍ قَدْ أَظَلَّتْنِی، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فیہَا جِبْرِیلُ فَنَادَانِی فَقَالَ إِنَّ اللَّہَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِکَ لَکَ وَمَا رَدُّوا عَلَیْکَ ، وَقَدْ بَعَثَ إِلَیْکَ مَلَکَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَہُ بِمَا شِءْتَ فیہِمْ ، فَنَادَانِی مَلَکُ الْجِبَالِ ، فَسَلَّمَ عَلَیَّ ثُمَّ قَالَ یَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ ذَلِکَ فیمَا شِءْتَ ، إِنْ شِءْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَیْہِمِ الأَخْشَبَیْنِ ، فَقَال النَّبِیُّ ﷺ بَلْ أَرْجُوْ أَنْ یُخْرِجَ اللَّہُ مِنْ أَصْلاَبِہِمْ مَنْ یَعْبُدُ اللَّہَ وَحْدَہُ لاَ یُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا) [ رواہ البخاری : کتاب بدأ الخلق، باب اذا قال أحدکم آمین والملائکۃ فی السماء ] ” عروہ کہتے ہیں نبی ﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا، کیا آپ پر احد سے بھی زیادہ سخت دن آیا ہے، آپ نے فرمایا عائشہ میں نے تیری قوم سے پایا ہے جو پایا ہے اور سب سے زیادہ سختی عقبہ والے دن پائی۔ جب میں نے اپنی دعوت ابن عبد یا لیل بن عبدکلال پر پیش کی۔ اس نے میری خواہش کے برعکس جواب دیا۔ میں انتہائی افسردہ چہرے کے ساتھ واپس ہوا۔ میرا غم ہلکا نہ ہوا تھا کہ میں قرن ثعا لب میں آگیا میں نے اپنا سر اٹھایا تو ایک بادل کو سایہ کیے ہوئے پایا میں نے دیکھا اس میں جبرائیل (علیہ السلام) تھے اس نے مجھے آواز دی اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کے جواب کو سن لیا ہے جو انہوں نے دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے اگر آپ ان کو جو حکم دینا چاہیں دیں۔ مجھے پہاڑوں کے فرشتہ نے آواز دی اس نے مجھے سلام کہتے ہوئے کہا اے محمد ﷺ ! آپ ان کے متعلق جو کہنا چاہتے ہیں کہیں اگر آپ چاہتے ہیں تو میں ان پر دو پہاڑوں کو ملادوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشت سے ایسے لوگوں کو پیدا فرمائے گا جو ایک اللہ کی عبادت کرنے والے اور شرک نہ کرنے والے ہوں گے۔ “ (ہِنْدَ بْنِ أبِیْ ہَالَۃَ یَصِفُ لَنَا رَسُوْلَ اللَّہِ ﷺ قَالَ ہِنْدٌ فِیْمَا قَالَ کَانَرَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ مُتَوَاصِلُ الأحْزَانِِ ، دَاءِمُ الْفَکْرَۃِ ، لَیْسَتْ لَہٗ رَاحَۃٌ، وَلاَ یَتَکَلَّمُ فَیْ غَیْرِحَاجَۃٍ ، طَوِیْلُ السُّکُوْتِ ، یَفْتَتِحُ الْکَلَامِ وَیَخْتِمُہٗ بَأَشْدَاقِہِ لِا بِأطْرَافِ فَمِہِ وَیَتَکَلَّمُ بِجَوَامِعِ الْکَلَمِ ، فَصْلاً ، لَا فُضُوْلَ فِیْہِ وَلَا تَقْصِیْرِ ، دَمَثاً لَیْسَ بالجَافِیْ وَلَا بالْمَہِیْنِ ، یُعَظِّمْ النِعْمَۃِ وَإنْ دَقَتْ ، لَایَذُمُّ شَیْئاً ، وَلَمْ یَکُنْ یَذُمُّ ذَوَاقاً مَا یُطْعِمُ وَلَا یَمْدَحُہُ ، وَلَا یُقَامُ لِغَضَبِہِ إذَا تَعَرَّضَ لِلْحَقِّ بِشَیْءٍ حَتّٰی یَنْتَصِرُ لَہٗ ، لَا یَغْضِبُ لِنَفْسِہِ ، وِلَا یَنْتَصِرُ لَہَا سَمَاحَۃً وَإذَا أشَارَ أشَارَ بِکَفِّہِ کُلِّہَا، وَإذَا تَعَجَّبَ قَلْبُہَا، وَإذَا غَضِبَ أعْرَضَ وَأشَاحَ ، وَإذَا فَرحِ غَضَّ طَرْفَہٗ ، جَلَّ ضِحْکَہٗ التَبَسُّمُ ، وَیَفْتِرَ عَنْ مَثَل حَبِّ الغَمَامِ ) [ الرحیق المختوم ] ” ہند بن ابی ہالہ رسول اللہ ﷺ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں رسول محترم ﷺ پیہم غموں سے دوچار تھے، غور و فکر کرنے والے تھے، آرام طلب نہیں تھے بغیر ضرورت کے کلام نہ کرتے کم گو، آپ کلام شروع کرتے اور اس کا اختتام جبڑوں کے ساتھ کرتے، زبان کی نوک سے نہیں اور آپ جامع گفتگو کرتے مناسب وقفے کے ساتھ اس میں فضول اور ناقص گفتگو نہ ہوتی، نرم خو تھے، جفاجو اور حقیر نہ تھے، آپ چھوٹی نعمت کو بھی بڑا سمجھتے، کسی چیز کی مذمت نہ کرتے اور آپ کسی کھانے کے ذائقے کی مذمت نہ کرتے، نہ اسے کھاتے اور نہ اس کی تعریف کرتے، اور آپ غضب ناک نہ ہوتے مگر جب حق کا معاملہ آتا تو آپ بدلہ لیتے، اپنے لیے غصے میں نہ آتے اور نہ بدلہ لیتے، نرمی فرماتے اور جب اشارہ کرتے تو پورے ہاتھ سے اشارہ کرتے۔ اور جب تعجب کرتے تو اسے الٹ دیتے اور جب ناراض ہوتے اعراض کرتے اور پھرجاتے اور جب خوش ہوتے تو اپنی نگاہ کو جھکالیتے، آپ کا ہنسنا تبسم سے ظاہر ہوتا جب ختم ہوجاتا جیسے بادل چھٹ جاتا ہے۔ “ مسائل 1۔ رسول اکرم ﷺ اپنی امت کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ 2۔ رسول معظم ﷺ اپنی امت کے لیے بہت فکر مند رہتے تھے۔ 3۔ رسول معظم ﷺ نہایت اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ 4۔ رسول کریم ﷺ کو اپنے ساتھیوں کی تکلیف بڑی گراں گزرتی تھی۔ 5۔ رسول محترم ﷺ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نرمی کرنے، رحم فرمانے والے تھے۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم ﷺ کے اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک : 1۔ نبی اکرم مومنوں کے ساتھ شفیق و مہربان ہیں۔ (التوبۃ : 128) 2۔ ہم نے آپ کا ذکر بلند کیا ہے۔ (الانشراح : 4) 3۔ ہم نے آپ کو جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ (الانبیاء : 107) 4۔ ہم نے آپ کو جہان والوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ (سبا : 28) 5۔ ہم نے آپ کو دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ہے۔ (الاحزاب : 46) 6۔ آپ تمام انسانوں کے نبی ہیں (الاعراف : 158) 7۔ آپ خا تم المرسلین نبی ہیں۔ ( الاحزاب : 40 ) 8۔ آپ رسولوں میں سے ہیں، اور آپ صراط مستقیم پر گامزن ہیں۔ (یٰس : 3۔ 4)
Top