Tafseer-Ibne-Abbas - Al-Muminoon : 76
وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ
وَ : اور لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ : البتہ ہم نے انہیں پکڑا بِالْعَذَابِ : عذاب فَمَا اسْتَكَانُوْا : پھر انہوں نے عاجزی نہ کی لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کے سامنے وَمَا يَتَضَرَّعُوْنَ : اور وہ نہ گڑگڑائے
اور ہم نے ان کو عذاب میں بھی پکڑا تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی اور وہ عاجزی کرتے نہیں ہیں
(76) اور ہم نے ان کو بھوک اور قحط سالی کے عذاب میں گرفتار بھی کیا ہے سو یہ لوگ نہ اپنے پروردگار کے سامنے توحید کے قائل ہو کر جھکے اور نہ عاجزی اختیار کر کے ایمان لائے شان نزول : (آیت) ”۔ ولقد اخذنھم بالعذاب“۔ (الخ) امام نسائی ؒ اور حاکم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابوسفیان ؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ محمد ﷺ میں آپ کو اللہ کی اور رشتہ داری کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ ہم نے خون اور مردار تک کھالیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی ہم نے ان کو گرفتار عذاب بھی کیا ہے سو ان لوگوں نے نہ اپنے رب کے سامنے فروتنی کی اور عاجزی اختیار کی اور امام بیہقی ؒ نے دلائل میں ان الفاظ میں روایت نقل کی ہے کہ ابن ایاز حنفی جب رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں لائے گئے تو وہ قیدی تھے آپ نے ان کو رہا کردیا چناچہ وہ اسلام قبول کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے پھر وہاں سے واپس آئے تو مکہ والوں اور یمامہ والوں کے درمیان کوئی رکاوٹ ہوگئی یہاں تک نوبت آگئی کہ قریش نے مردار تک کھائے اس کے بعد ابوسفیان رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ یہ نہیں کہتے کہ میں رحمۃ العالمین بنا کر بھیجا گیا ہوں ؟ آپ نے فرمایا یقینا تو ابوسفیان کہنے لگے تو باپ دادا تو تلواروں سے قتل دیے گئے اور اولاد بھوک سے مرگئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Top