Tafseer-Ibne-Abbas - At-Taghaabun : 16
فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
فَاتَّقُوا اللّٰهَ : پس ڈرو اللہ سے مَا اسْتَطَعْتُمْ : جتنی تم میں استطاعت ہے وَاسْمَعُوْا : اور سنو وَاَطِيْعُوْا : اور اطاعت کرو وَاَنْفِقُوْا : اور خرچ کرو خَيْرًا : بہتر ہے لِّاَنْفُسِكُمْ : تمہارے نفسوں کے لیے وَمَنْ يُّوْقَ : اور جو بچالیا گیا شُحَّ : بخیلی سے نَفْسِهٖ : اپنے نفس کی فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : وہ ہیں فلاح پانے والے ہیں
سو جہاں تک ہو سکے خدا سے ڈرو اور (اسکے احکام کو) سنو اور (اسکے) فرمانبردار ہو اور (اسکی راہ میں) خرچ کرو (یہ) تمہارے حق میں بہتر ہے اور جو شخص طبیعت کے بخل سے بچایا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔
تو جہاں تک ہوسکے اللہ تعالیٰ کی اعت کرو اور اس کے احکام کو سنو اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول جو تمہیں حکم دے اس کو مانو اور اپنے اموال کو اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خیرات کرو یہ خیرات کرنا تمہارے لیے مال کے روکنے سے بہتر ہوگا۔ اور جو شخص نفسانی حرص سے محفوظ رہا یا یہ کہ جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی تو ایسے ہی لوگ غصہ اور ناراضگی سے بچنے والے ہیں۔ شان نزول : فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (الخ) ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت اتَّقُوا اللّٰهَ حق تقاتہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام پر عمل کرنا شاق ہوگیا، چناچہ وہ نفلوں میں اس قدر کھڑے ہوتے کہ ان کے قدموں پر سوج آجاتی اور چہرے پھٹ جاتے تھے تب مسلمانوں پر تخفیف کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ (الخ)
Top