Ashraf-ul-Hawashi - Al-Maaida : 2
حُرِّمَتْ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ وَ الْمُنْخَنِقَةُ وَ الْمَوْقُوْذَةُ وَ الْمُتَرَدِّیَةُ وَ النَّطِیْحَةُ وَ مَاۤ اَكَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَكَّیْتُمْ١۫ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ١ؕ ذٰلِكُمْ فِسْقٌ١ؕ اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ دِیْنِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِ١ؕ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا١ؕ فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
حُرِّمَتْ : حرام کردیا گیا عَلَيْكُمُ : تم پر الْمَيْتَةُ : مردار وَالدَّمُ : اور خون وَلَحْمُ الْخِنْزِيْرِ : اور سور کا گوشت وَمَآ : اور جو۔ جس اُهِلَّ : پکارا گیا لِغَيْرِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا بِهٖ : اس پر وَ : اور الْمُنْخَنِقَةُ : گلا گھونٹنے سے مرا ہوا وَالْمَوْقُوْذَةُ : اور چوٹ کھا کر مرا ہوا وَالْمُتَرَدِّيَةُ : اور گر کر مرا ہوا وَالنَّطِيْحَةُ : اور سینگ مارا ہوا وَمَآ : اور جو۔ جس اَ كَلَ : کھایا السَّبُعُ : درندہ اِلَّا مَا : مگر جو ذَكَّيْتُمْ : تم نے ذبح کرلیا وَمَا : اور جو ذُبِحَ : ذبح کیا گیا عَلَي النُّصُبِ : تھانوں پر وَاَنْ : اور یہ کہ تَسْتَقْسِمُوْا : تم تقسیم کرو بِالْاَزْلَامِ : تیروں سے ذٰلِكُمْ : یہ فِسْقٌ : گناہ اَلْيَوْمَ : آج يَئِسَ : مایوس ہوگئے الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) سے مِنْ : سے دِيْنِكُمْ : تمہارا دین فَلَا تَخْشَوْهُمْ : سو تم ان سے نہ ڈرو وَاخْشَوْنِ : اور مجھ سے ڈرو اَلْيَوْمَ : آج اَكْمَلْتُ : میں نے مکمل کردیا لَكُمْ : تمہارے لیے دِيْنَكُمْ : تمہارا دین وَاَتْمَمْتُ : اور پوری کردی عَلَيْكُمْ : تم پر نِعْمَتِيْ : اپنی نعمت وَرَضِيْتُ : اور میں نے پسند کیا لَكُمُ : تمہارے لیے الْاِسْلَامَ : اسلام دِيْنًا : دین فَمَنِ : پھر جو اضْطُرَّ : لاچار ہوجائے فِيْ : میں مَخْمَصَةٍ : بھوک غَيْرَ : نہ مُتَجَانِفٍ : مائل ہو لِّاِثْمٍ : گناہ کی طرف فَاِنَّ اللّٰهَ : تو بیشک اللہ غَفُوْرٌ : بخشنے والا رَّحِيْمٌ : مہربان
مسلمانوں اللہ کی نشانیاں اور اس کے حکموں کی بےعزتی نہ کرو7 نہ حرمت والے مہینے کی8 نہ نیاز کے جانور کی اف 9 نہ ان جا نوروں کی جن کے گلے میں شکن ہوں10 نہ ان لوگوں کو جو عزت والے گھر خانہ کعبہ کو جارہے ہوں اپنے ما لک کا فضل اور اس کی راضامنی چاہتے ہوں11 اور جب احرام کھول ڈالو تو شکار کرو13 اور جن لوگوں نے تم کو مسجد حرام میں آنے سے روکا تھا حدیبیہ کے سال ان کی دشمنی تم سے زیادتی نہ کرئے3 اور آپس میں ایک دوسرے کی نیکی اور پرہیز گاروں میں مدد کر وف 1 ور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہو بیشک اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہے
7 شعائر یہ شعیرہ (یا سعارۃ) کی جمع ہے اوشعیرہ (نعیلہ) یعنی مشعرۃ (مفعلہ) ہے یعنی وہ چیز جس پر نشان لگایا ہو یا جو بطور علامت مقرر کی گئی ہو اس سے مراد شریعت کے جملہ اور نواہی ہیں۔ ان کو حلال نہ سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ترک نہ کرو یا بےحرمتی نہ کرو۔ بعض نے مناسک حج بھی مراد لیے ہیں (کبیر)8 یہ چار مہینے میں ذوالقعدۃ ذوالحجہ۔ محرم اور رجب مطلب یہ کہ ان میں جنگ کر کے ان کی بےحرمتی نہ کرو تفصیل کے لیے سورت توبہ 36 ۔ (کبیر)9 بدیٰ خانہ کعبہ کی نیاز کے جانور یعنی جو قربانی کے جانور خانہ کعبہ بھیجے جائیں ان کو راستے میں مت روکو، یہ جانور گو شعائر اللہ کے تحت ہی آجاتے تھے لیکن ان کے مزید احترام کی خاطر ان کو الگ بیان کردیا گیا ہے10 یہ قلادۃ کی جمع ہے جس سے مراد وہ رسی ہے جس میں جوتی وغیرہ پر وکر بدی کے گلے میں بطور علامت باندھ دی جاتی ہے اس کا اطلاق اس جا نور پر بھی ہوتا ہے جس کے گلے میں یہ پٹہ ڈالاہوا ہو چناچہ ترجمہ اسی کے پیش نظر ہے۔11 دب کے فضل سے مراد رزق ہے ج تجارت وغیرہ کے ذریعہ کمایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی سے مراد حج یا عمرہ ہے جو طلب ثواب کے لیے کیا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ حج یا عمرہ میں تجارت کی نیت بھی کرلی جائے تو ممنوع نہیں ہے بعض نے فضل سے ثواب ہی مراد لیا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ نے ثواب اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مکہ جا رہے ہیں (ابن کثیر) اگر اس کے تحت مشرک بھی داخل ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ بھی اپنے زعم میں اللہ تعالیٰ کی خشنودی حاصل کرنے کے لیے جاتے ہیں لہذا ان کو تکلیف مت دو مگر یہ حکم سورت توبہ آیت 28 کی رو سے منسوخ ہوگا۔ (ابن کثیر قرطبی)12 یہ مربرائے اباحت یعنی احرام کھولنے کے بعد شکار جائز ہے ( ابن کثیر)13 حضرت زید ؓ بن اسلم فرماتے ہیں حدیبیہ کے سال تقریبا ڈیڑ ھ ہزار مسلمان عمرہ کیے بغیر واپس چلے آئے تو ان کے دل میں نہایت غصہ اضطراب تھا۔ اس سال نجد کے کچھ مشرک بھی عمرہ کے لیے مکہ معظمہ جارہے تھے وہ مدینہ کے پاس سے گزرنے لگے تو مسلما نوں نے ارادہ کیا کہ جس طرح مشرکین مکہ نے ہمیں عمرہ سے روک دیا ہے ہم بھی ان کو روک دیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرائی (ابن کثیر) مطلب یہ کہ انہوں نے گو شعائر اللہ کی بےحرمتی کی ہے مگر تم اس سے دشمنی سے مغلوب ہو کر انتقامی کاروائی مت کرو۔ 1 ہر قسم کا نیک کام کرنے کا نام بر ہے اور برائی کر ترک کرنے کا کام تقویٰ ہے باہم تعاون اور عدم تعاون کے لیے ایک اصول مقرر کردیا ہے جس سے اسلامی معاشرہ میں برائیوں کا سدباب ہوسکتا ہے۔ حدیث میں ہے انصر اخاک ظالما او مظلوما کہ مسلمان بھائی کی مدد کرو خواہ وہ مظلوم یا ظالم ہی کیوں نہ ہو اور ظلم ہی کیوں نہ ہو اور ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے ، (ابن کثیر )
Top