Tafseer-e-Majidi - Al-Ahzaab : 53
فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ
فَالْتَقَطَهٗٓ : پھر اٹھا لیا اسے اٰلُ فِرْعَوْنَ : فرعون کے گھر والے لِيَكُوْنَ : تاکہ وہ ہو لَهُمْ : ان کے لیے عَدُوًّا : دشمن وَّحَزَنًا : اور غم کا باعث اِنَّ : بیشک فِرْعَوْنَ : فرعون وَهَامٰنَ : اور ہامان وَجُنُوْدَهُمَا : اور ان کے لشکر كَانُوْا : تھے خٰطِئِيْنَ : خطا کار (جمع)
چناچہ فرعون کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھالیا تاکہ وہ ان کے لئے دشمن اور غم (کا باعث) بنیں،7۔ بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین (بڑے) خطا کار تھے،8۔
7۔ حضرت موصوفہ نے ان ہدایتوں پر عمل کیا۔ دریائے نیل فرعون کے شاہی محل کے نیچے ہو کر بہا تھا۔ صندوق بہتے بہتے وہاں پہنچا۔ فرعونیوں کے نظر پڑی جھپٹ کر نکالا۔ اس کے اندر سے ایک پیارا بچہ نکلا، اس کی پرورش کی گئی۔ اور اس طرح اپنے ہاتھوں اپنی ہلاکت اور مصیبت کا سبب بن گئے۔ (آیت) ” ال فرعون “۔ یعنی فرعون کے لوگ (آیت) ” لیکون “۔ میں ل عاقبت کا ہے یعنی ان کے اس بچہ کو اٹھا لینے کا نتیجہ یہی ہونا تھا۔ تعلیل لا لتقاطھم ایاہ بما ھو عاقبتہ (بیضاوی) وھذہ اللام تسمی لام العاقبۃ ولام الصیرورۃ لانھم لم یلتقطوہ لیکون لھم عدوا وحزنا ولکن صارعاقبۃ امرھم الی ذلک (معالم) اے لیصیر الامر الی ذلک لانھم اخذوہ لھذا کذا قالہ الزجاج وعن ھذا قال المفسرون ان ھذہ لام العاقبۃ والصیرورۃ (مدارک) 8۔ (اور ایسے ظالموں فاجروں کو سزا ملنی ہی تھی) جمہور مفسرین کا یہی مذہب ہے۔ واما جمھور المفسرین فقالوا معناہ کانوا خاطئین فی ماکانوا علیہ من الکفر والظلم (کبیر) کانوا خاطئین سے دوسری مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اپنے اس عمل میں بڑے خطا کا ر، بڑے لغزش کرنے والے، بڑے چوکنے والے ثابت ہوئے۔ حسن بصری (رح) سے یہی معنی مروی ہے۔ قال الحسن معنی کانوا خاطئین لیس معنی الخطیءۃ بل المعنی ھم لایشعرون انہ الذی یذھب بملکھم (کبیر) یہ پہلو بھی اختیار کیا جاسکتا ہے اور کیا گیا ہے کہ خطا شعاری تو ان میں رچی ہوئی تھی ہی۔ سو اگر اس معاملہ میں بھی غلطی کربیٹھے تو ان کے لیے کوئی انوکھی چیز نہ ہوئی۔ اے کانوا خاطئین فی کل شیء فلیس خطؤھم فی تربیۃ عدوھم ببدع منھم (مدارک)
Top