Tadabbur-e-Quran - Al-Qasas : 8
فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ
فَالْتَقَطَهٗٓ : پھر اٹھا لیا اسے اٰلُ فِرْعَوْنَ : فرعون کے گھر والے لِيَكُوْنَ : تاکہ وہ ہو لَهُمْ : ان کے لیے عَدُوًّا : دشمن وَّحَزَنًا : اور غم کا باعث اِنَّ : بیشک فِرْعَوْنَ : فرعون وَهَامٰنَ : اور ہامان وَجُنُوْدَهُمَا : اور ان کے لشکر كَانُوْا : تھے خٰطِئِيْنَ : خطا کار (جمع)
تو فرعون کے گھر والوں نے اس کو اٹھا لیا کہ وہ ان کے لئے دشمن اور باعث غم بنے۔ بیشک فرعون و ہامان اور ان کے اہل لشکر سے بڑی چوک ہوئی
حضرت موسیٰ شاہل محل میں اتنی بات پر بنائے قرینہ یہاں پر حذف ہے کہ حضرت موسیٰ کی والدہ نے جب خطرہ محسوس کیا تو ہدایت خداوندی کے مطابق بچے کو سرکنڈے کے ایک صندوق میں رکھ کر صندوق کو دریائے نیل کے حوالہ کردیا۔ تو رات کی مذکورہ بالا روایت پر اعتماد کیجیے تو واقعہ کی تفصیل یہ معلوم ہوتی ہے کہ تین ماہ تک تو انہوں نے بچے کو کسی نہ کسی طرح چھپانے رکھنے کی کوشش کی لیکن بالآخر انہیں یہ اندازہ ہوگیا کہ یہ تدبیر کا رگر ہونے والی نہیں ہے۔ چناچہ ناچار انہیں وہ اقدام کرنا ہی پڑا جس کا ذکر اوپر ہوا۔ دریائے نیل اسرائیلیوں کی بستی کے پاس سے گزرتا ہوا فرعون کے محل کی طرف جاتا تھا۔ وہاں دریا کی موجوں نے صندوق کو کنارے پر ڈال دیا۔ فرعون کے گھر کے لوگوں کی نظر اس پر پڑگئی۔ انہوں نے جب دیکھا کہ صندوق میں ایک موہنا بچہ پڑا ہوا ہے تو بادشاہ اور مکلہ کے حکم سے بچے کو شاہی محل میں لایا گیا۔ فرعون کی بیوی جیسا کہ سورة تحریم سے واضح ہے۔ نہایت نیک دل تھیں۔ انہوں نے کہا اس بچے کو قتل نہ کرو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہم کو نفع پہنچائے یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ شاہی محل میں پہنچ گئے اور بادشاہ اور ملکہ دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گئے۔ یہاں لفظ ل سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب صندوق میں پڑے ہوئے ایک بچے کا ذکر شاہی محل تک پہنچ اتو خادنان شاہی کے تمام چھوٹے بڑے موقع پر پہنچ گئے اور سب اس کو اٹھا کر محل میں لائے۔ تقدیر الٰہی کے بھید کسی کو معلوم نہیں لیکون لھم عدوا وحدنا اس ل کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں کہ یہ غایت و انجام کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ انہوں نے تو بچے کو اس لئے اٹھایا کہ وہ ان کے لئے، جیسا کہ آگے ملکہ کے قول سے واضح ہوگا، آکھوں کی ٹھنڈک بنے گا لیکن تقدیر الٰہی کا یہ بھید ان کو نہیں و معلوم تھا کہ اس بچے کے ہاتھوں فرعونی اقتدار کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوجائے گا۔ ان فرعون وھا من وجنودھما کانوا خطبین یر فعون، ہامان اور ان کے فوجیوں کے رویے پر عام تبصرہ ہے کہ وہ اپنی حماقت کے سبب سے یہ سمجھے کہ تمام اختیار واقدتار ان کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بنی اسرائیل کو ہمیشہ اسی طرح دبائے رکھیں گے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ اگر خدا چاہے گا تو ان کے سب سے بڑے قامع کی پرورش ان کے شاہی محل میں، خود بادشاہ اور مکلہ کے ہاتھوں کرائے گا ! اوپر آیت 6 کے مضمون پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
Top