Tadabbur-e-Quran - Al-Insaan : 21
عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا
عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ : انکے اوپر کی پوشاک سُنْدُسٍ : باریک ریشم خُضْرٌ : سبز وَّاِسْتَبْرَقٌ ۡ : اور دبیز ریشم (اطلس) وَّحُلُّوْٓا : اور انہیں پہنائے جائیں گے اَسَاوِرَ : کنگن مِنْ فِضَّةٍ ۚ : چاندی کے وَسَقٰىهُمْ : اور انہیں پلائے گا رَبُّهُمْ : ان کا رب شَرَابًا : ایک شراب (مشروب) طَهُوْرًا : نہایت پاک
ان کے اوپر سندس کا سبز اور استبرق کا لباس ہوگا اور وہ چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو پاکیزہ مشروب پلائے گا۔
اہل جنت کا لباس: ’عَالِیَ‘ میرے نزدیک حال کے محل میں ہے اور مراد اس سے اہل جنت کے بالائی کپڑے۔۔۔ عبا اور قبا وغیرہ۔۔۔ ہیں۔ ان کے بالائی جامے سبز سندس اور استبرق کے ہوں گے۔ سندس اور استبرق ایران کے بنے ہوئے مشہور ریشمی کپڑوں کے نام تھے۔ بعض لوگوں نے ان دونوں کے درمیان باریک اور دبیز کا فرق کیا ہے لیکن یہ تحقیق غیر ضروری ہے۔ یہاں مراد جنت کے سندس اور استبرق ہیں جن کی اصل حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ اہل عرب، ایران اور مصر ہی کے تمدن سے اس زمانہ میں زیادہ آشنا تھے اس وجہ سے جنت کی نعمتوں کی تمثیل کے لیے زیادہ تر انہی کی تمدنی چیزوں کے نام مستعار لیے گئے۔ اس دور کے سلاطین سندس اور استبرق کی عبائیں زیب تن کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ جن کے اوپر کے جامے سندس اور استبرق کے ہوں گے ان کے زیریں جامے اور بھی نرم و نازک ہوں گے۔ یہاں اہل جنت کے بالائی لباس کا تصور دے کر بات ختم کر دی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے قیاس کر لو کہ اور وہ کیا کچھ پہنیں گے۔ اہل جنت کے ذوق کا لحاظ: ’وَّحُلُّوْٓا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّۃٍ‘۔ اس زمانے کے سلاطین سونے اور چاندی کے کنگن بھی پہنتے تھے۔ فرمایا کہ ان کو چاندی کے کنگن بھی پہنائے جائیں گے۔ یہاں چاندی کے کنگنوں کا ذکر ہے۔ سورۂ کہف میں سونے کے کنگنوں کا ذکر ہے: ’یُحَلَّوْنَ فِیْھَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَھَبٍ وَّیَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ‘ (۳۱) (وہ اس میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سندس کے سبز لباس)۔ بعینہٖ یہی بات سورۂ حج آیت ۲۳ اور سورۂ فاطر آیت ۳۳ میں فرمائی گئی ہے۔ اس کی توجیہہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ تنوع کے اظہار کے لیے ہے کہ اہل جنت جب چاہیں گے سونے کے کنگن پہنیں گے اور جن کا جی چاہے گا چاندی کے پہنیں گے۔ تنوع پسندی اور اختلاف مذاق ایک فطری چیز ہے جنت میں ہر شخص کے ذوق اور اس کے انتخاب کا پورا لحاظ ہوگا۔ ’لَہُمْ مَّا یَشَآءُ وْنَ فِیْھَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ‘ (قٓ ۵۰: ۳۵) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ مفسرین نے عام طور پر یہی توجیہ کی ہے لیکن میرا ذہن ایک اور طرف بھی جاتا ہے۔ وہ یہ کہ اہل جنت کے مراتب میں، جیسا کہ سورۂ واقعہ میں تفصیل سے آپ پڑھ چکے ہیں، فرق ہو گا۔ ایک گروہ سابقون اولون اور مقربین کا ہو گا۔ دوسرا طبقہ اصحاب یمین کا۔ ان دونوں طبقوں کی جنتوں اور نعمتوں میں فرق ایک قدرتی امر ہے۔ قرآن نے اس فرق کو واضح بھی کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس فرق کی بنا پر قرآن نے کہیں سونے کا ذکر کیا اور کہیں چاندی کا۔ ایک خاص نکتہ: ’وَسَقّٰھُمْ رَبُّھُمْ شَرَابًا طَھُوْرًا‘۔ اس ٹکڑے میں بھی ایک نکتہ قابل توجہ ہے۔ اوپر آیت ۵ میں ارشاد ہے: ’اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ کَانَ مِزَاجُھَا کَافُوْرًا‘ (اللہ کے وفادار بندے ایک ایسی شراب میں سے پئیں گے جس میں چشمۂ کافور کی ملونی ہو گی) اس کے بعد آیت 17 میں فرمایا: ’وَیُسْقَوْنَ فِیْھَا کَاْسًا کَانَ مِزَاجُھَا زَنْجَبِیْلًا‘ (اور وہ اس میں ایک ایسا جام پلائے جائیں گے جس مین چشمۂ زنجبیل کی ملونی ہو گی) اور یہاں ارشاد ہوا کہ ’وَسَقٰھُمْ رَبُّھُمْ شَرَابًا طَھُوْرًا‘ (اور ان کا پروردگار ان کو ایک شراب طہور پلائے گا)۔ عربیت کا ذوق رکھنے والے آسانی سے اس فرق کو سمجھ سکتے ہیں جو ان تینوں اسلوبوں۔۔۔ ’یَشْرَبُوْنَ مِنْ کَاْسٍ‘، ’یُسْقَوْنَ کَاْسًا‘، ’سَقٰھُمْ رَبُّھُمْ‘۔۔۔ میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ فرق کیوں ہے؟ میرے نزدیک یہ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ یہ ابرار درجہ بدرجہ قرب الٰہی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس مقام تک پہنچ جائیں گے کہ خود رب کریم ان کو شراب طہور کا جام پلائے گا! یہ شراب طہور کیا ہے؟ اس کا تصور اس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا اس وجہ سے اس کے لیے قرآن نے کوئی اس طرح کا تمثیلی اسلوب اختیار نہیں کیا جس طرح کا اسلوب اوپر چشمۂ کافور اور چشمۂ زنجبیل کے لیے اختیار فرمایا۔ اس کو صرف رب کریم ہی جانتا ہے۔ کبھی کبھی میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ یہ اس مشک بو، مہربند شراب خالص کی طرف اشارہ ہے جو مقربین کے لیے خاص ہے اور جس کا ذکر سورۂ مطففین میں نہایت اہتمام سے بدیں الفاظ ہوا ہے: یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ خِتٰمُہٗ مِسْکٌ وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ عَیْنًا یَّشْرَبُ بِھَا الْمُقَرَّبُوْنَ.(المطففین ۸۶: ۲۵-۲۸) ’’اور وہ مہربند شراب خالص کے جام پلائے جائیں گے۔ اس کی مہر مشک کی ہو گی اور یہ ہے ایسی چیز کہ اس کی طلب میں طالبین باہم دگر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں اور اس میں ملونی چشمۂ تسنیم کی ہو گی۔ یہ ایک چشمہ ہے جس پر مقربین خاص مے نوشی کریں گے۔‘‘
Top