Tafseer-e-Majidi - Al-Insaan : 21
عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا
عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ : انکے اوپر کی پوشاک سُنْدُسٍ : باریک ریشم خُضْرٌ : سبز وَّاِسْتَبْرَقٌ ۡ : اور دبیز ریشم (اطلس) وَّحُلُّوْٓا : اور انہیں پہنائے جائیں گے اَسَاوِرَ : کنگن مِنْ فِضَّةٍ ۚ : چاندی کے وَسَقٰىهُمْ : اور انہیں پلائے گا رَبُّهُمْ : ان کا رب شَرَابًا : ایک شراب (مشروب) طَهُوْرًا : نہایت پاک
ان (جنتیوں) پر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دیبز ریشم کے کپڑے بھی اور انہیں چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا پروردگار ان کو پاکیزہ شراب پینے کو دے گا،12۔
12۔ ایسا پاکیزہ ولطیف مشروب، جو دوسروں کو بھی پاک ولطیف بنا دے گا۔ (آیت) ” سندس خضرواستبرق “۔ ہر دو قسم کے لباس ریشمین الگ الگ لطف ولذت دیں گے۔ (آیت) ” ثیاب ...... فضۃ “۔ ہر موطن کا مقتضاجداگانہ ہوتا ہے۔ ریشم اور زیور اس دنیا میں مردوں کے لئے بعض مفاسد کی بناء پر ممنوع ومعیوب ہے۔ جن کی فضا میں وہ سارے مفاسدغیر موجود ہوں گے۔ (آیت) ” وسقھم ربھم “۔ اہل جنت کے اعزاز واکرام کی ترتیب اس سورت میں دیکھتے آئیے۔ پہلے ارشاد ہوا (آیت) ” یشربون “۔ یعنی وہ خود وہاں پییں گے۔ پھر وارد ہوا (آیت) ” یسقون “۔ (بصیغہ مجہول) یعنی انہیں پلایا جائے گا۔ پلانے والے مجہول رہے، چاہے فرشتے ہوں یا جنت کے کوئی دوسرے خدام ہوں۔ اب کی ارشاد ہورہا ہے۔ کہ (آیت) ” وسقھم ربھم “۔ ساقی براہ راستہ باری تعالیٰ ہوگی، کیا ٹھکانا ہے اس اعزاز واکرام کا۔ (آیت) ” شرابا “۔ شراب عربی میں ہر مشروب (پینے والی چیز) کو کہتے ہیں۔ وکل مائع ماء کان اوغیرہ (راغب) اس سے ذہن اردو کے لفظ شراب اور اس کے گندے، نشیلے مفہوم کی طرف کہیں منتقل نہ ہوجائے۔ (آیت) ” طھورا “۔ صیغہ مبالغہ ہے یعنی ایسا مشروب جو نہ صرف نہایت پاک وپاکیزہ ہے بلکہ پاکیزہ گر بھی ہے۔
Top