Mutaliya-e-Quran - Hud : 72
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ جَآءُوْ : وہ آئے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں رَبَّنَا : اے ہمارے رب اغْفِرْ لَنَا : ہمیں بخشدے وَلِاِخْوَانِنَا : اور ہمارے بھائیوں کو الَّذِيْنَ : وہ جنہوں نے سَبَقُوْنَا : ہم سے سبقت کی بِالْاِيْمَانِ : ایمان میں وَلَا تَجْعَلْ : اور نہ ہونے دے فِيْ قُلُوْبِنَا : ہمارے دلوں میں غِلًّا : کوئی کینہ لِّلَّذِيْنَ : ان لوگوں کیلئے جو اٰمَنُوْا : وہ ایمان لائے رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اِنَّكَ : بیشک تو رَءُوْفٌ : شفقت کرنیوالا رَّحِيْمٌ : رحم کرنے والا
(اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے) جو اِن اگلوں کے بعد آئے ہیں، جو کہتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ، اے ہمارے رب، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے"
[وَالَّذِينَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ : اور ان کے لیے ہے جو آئے ان کے بعد ][ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا : کہتے ہوئے اے ہمارے رب تو بخش دے ہمارے لیے ][ وَلِاِخْوَاننَا الَّذِينَ : اور ہمارے ان بھائیوں کے لیے (گناہ) جنھوں نے ][ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَان : سبقت کی ہم پر ایمان میں ][وَلَا تَجْعَلْ : تو مت بنا ][ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا : ہمارے دلوں میں کوئی کدورت ][ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے ][ رَبَّنَآ انكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ : اے ہمارے رب بیشک تو ہی انتہائی نرمی کرنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] نوٹ۔ 4 : آیت نمبر۔ 10 ۔ تک جو احکام ارشاد ہوئے ہیں ان میں یہ فیصلہ کردیا گیا ہے کہ فَے میں اللہ اور رسول ﷺ اور اقربائے رسول ﷺ اور یتامٰی اور مساکین اور ابن السبیل اور مہاجرین اور انصار اور قیامت تک آنے والی مسلمان نسلوں کے حقوق ہیں۔ قرآن پاک کا یہی اہم قانونی فیصلہ ہے جس کی روشنی میں حضرت عمر نے عراق، شام اور مصر کے مفتوحہ ممالک کی آراضی اور جائیدادوں کا نیا بندوبست کیا۔ یہ ممالک جب فتح ہوئے تو بعض صحابۂ کرام نے، جن میں حضرت زبیر، حضرت بلال، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت سلمان فارسی جیسے بزرگ بھی شامل تھے، اصرار کیا کہ ان آراضی اور جائیدادوں کو ان افواج میں تقسیم کیا جائے جنہوں نے لڑ کر انہیں فتح کیا ہے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ یہ اموالِ فَے کی تعریف میں نہیں آتے کیونکہ ان پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑا کر انہیں جیتا ہے اس لیے مفتوحہ ممالک غنیمت کی تعریف میں آتے ہیں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں جو علاقے لڑ کر فتح کیے گئے تھے ان میں سے کسی کی آراضی کو آپ ﷺ نے غنیمت کی طرح تقسیم نہیں فرمایا تھا۔ آپ ﷺ کے زمانے کی دو بہترین مثالیں فتح مکہ اور فتح خیبر ہیں ان میں سے مکہ کو تو آپ ﷺ نے جوں کا توں اس کے باشندوں کے حوالہ فرما دیا جبکہ خیبر کے آپ ﷺ نے 36 حصے کیے، ان میں سے 18 حصے اجتماعی ضروریات کے لیے وقف کر کے باقی حصے فوج میں تقسیم فرما دیئے۔ حضور ﷺ کے عمل سے یہ ابت واضح ہوگئی تھی کہ مفتوحہ آراضی کا حکم، اگرچہ وہ لڑ کر ہی فتح ہوئی ہوں، غنیمت کا نہیں ہے۔ پس سنت سے جو بات ثابت تھی کہ لڑ کر فتح کیے جانے والے ممالک کے معاملہ میں امام وقت کو اختیار ہے کہ حالات کے مطابق مناسب فیصلہ کرے۔ مگر حضور ﷺ کے زمانے میں فتوحات کی کثرت نہ ہوئی تھی۔ اس لیے حضرت عمر کے زمانے میں جب بڑے بڑے ممالک فتح ہوئے تو صحابہ کرام کو اس الجھن سے سابقہ پیش آیا کہ بزور شمشیر فتح ہونے والے علاقے غنیمت ہیں یا فَے۔ حضرت بلال کی رائے تھی کہ اس کو فوجیوں کے درمیان مال غنیمت کی طرح تقسیم ہونا چاہیے۔ حضرت زبیر کی رائے تھی کہ اس کو خیبر کی طرح تقسیم کیا جائے۔ دوسری طرف حضرت علی کی رائے تھے کہ ان زمینوں کو ان کے کاشتکاروں کے پاس رہنے دیا جائے تاکہ یہ مسلمانوں کے لیے ذریعہ آمدنی بنیں رہیں۔ حضرت معاذ بن جبل کی رائے تھی کہ تقسیم کرنے سے بڑی بڑی جائیدادیں ان چند لوگوں کے قبضے میں چلی جائیں گی جنہوں نے یہ علاقے فتح کیے ہیں، لیکن آنے والی نسلوں کے لیے کچھ نہ رہے گا، حضرت عمر نے غور و فکر کے بعد یہ رائے قائم کی کہ ان علاقوں کو تقسیم نہ ہونا چاہیے۔ لیکن لوگ مطمئن نہ ہوئے اور انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ آپ ظلم کر رہے ہیں۔ آخرکار حضرت عمر نے مجلس شورٰی کا اجتماع منعقد کیا ہے اور اس کے سامنے یہ معاملہ رکھا۔ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت عبد اللہ بن عمر، وغیرہ نے حضرت عمر کی رائے سے اتفاق کیا لیکن فیصلہ نہ ہوسکا اور یہ بحث تین دن تک چلتی رہی، آخر میں اس مسئلے کا فیصلہ کردینے والی ہے۔ پھر انہوں نے سورة حشر کی آیات 5 تا 10 تلاوت کی اور ان سے یہ استدلال کیا کہ اللہ کی ان عطا کردہ املاک میں صرف اس زمانے کے لوگوں کا ہی حصہ نہیں ہے بلکہ بعد کے آنے والوں کو بھی اللہ نے ان کے ساتھ شریک کیا ہے۔ پھر یہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ اس فَے کو جو سب کے لیے ہے، ہم ان فاتحین میں تقسیم کردیں اور بعد والوں کے لئے کچھ نہ چھوڑیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کی لاَ یَکُوْنَ دُوْلَۃً بَیْنَ الْاَغْنِیَائِ مِنْکُمْ ۔ اگر میں اسے فاتحین میں تقسیم کر دوں تو یہ تمہارے مالداروں ہی میں چکر لگاتا رہے گا اور دوسروں کے لیے کچھ نہ بچے تا۔ یہ دلیل تھی جس نے سب کو مطمئن کردیا۔ اور اس بات پر اجماع ہوگیا کہ ان تمام مفتوحہ علاقوں کو عام مسلمین کے لیے فَے قرار دیا جائے، جو لوگ ان آراضی پر کام کر رہے ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں انہیں رہنے دیا جائے اور ان پر خراج اور جزیہ لگا دیا جائے (تفہیم القرآن۔ ج 5، ص 397 تا 400)
Top