Dure-Mansoor - Al-Hashr : 10
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ جَآءُوْ : وہ آئے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں رَبَّنَا : اے ہمارے رب اغْفِرْ لَنَا : ہمیں بخشدے وَلِاِخْوَانِنَا : اور ہمارے بھائیوں کو الَّذِيْنَ : وہ جنہوں نے سَبَقُوْنَا : ہم سے سبقت کی بِالْاِيْمَانِ : ایمان میں وَلَا تَجْعَلْ : اور نہ ہونے دے فِيْ قُلُوْبِنَا : ہمارے دلوں میں غِلًّا : کوئی کینہ لِّلَّذِيْنَ : ان لوگوں کیلئے جو اٰمَنُوْا : وہ ایمان لائے رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اِنَّكَ : بیشک تو رَءُوْفٌ : شفقت کرنیوالا رَّحِيْمٌ : رحم کرنے والا
اور جو ان کے بعد آئے وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تو ہماری مغفرت کردے اور ہمارے بھائیوں کی ان کی جنہوں نے ایمان میں ہم سے سبقت کی ہے اور دلوں میں کینہ مت رکھ ایمان والوں کے لیے اے ہمارے پروردگار یقیناً تو بہت زیادہ شفقت والا نہایت مہربان ہے
1۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والذین جاء و من بعدہم اور جو ان کے بعد آئے یعنی وہ لوگ جو ان کے بعد اسلام لائے تو انہوں نے اس سے عبداللہ بن نبتل اور اوس بن قیظی کو مراد لیا۔ 2۔ حاکم وصححہ وابن مردویہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ لوگ تین مراتب میں ہیں ان میں دو کا ذکر پہلے گزر چکا ایک مرتبہ کا ذکر باق ہے۔ سو اچھا ہے جو تم اس مرتبہ پر ہوتے یعنی تم اس رتبہ اور درجہ پر ہو جس کا ذکر ابھی باقی ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت للفقراء المہجرین الذین اخرجوا من دیارہم واموالہم۔ ان فقراء مہاجرین کے لیے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکالے گئے۔ پھر فرمایا اس سے مراد مہاجرین ہیں اور یہ وہ رتبہ ہے جو گزر چکا۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت والذین تبوؤ الدار والایمان من قبلہم۔ اور جو لوگ دار الاسلام اور ایمان میں ان مہاجرین کے آنے سے پہلے مقیم تھے۔ پھر فرمایا اس سے مراد انصار ہے اور یہ رتبہ بھی گزرچکا پھر یہ آیت پڑھی آیت والذین جاء و من بعدہم یقولون ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان۔ اور جو لوگ ان کے بعد آئے اور وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے۔ یعنی یہ دونوں رتبے گزر چکے ہیں اور یہ تیسرا رتبہ باقی ہے سو اچھا ہے کہ تم اس رتبہ پہ ہوجاؤ۔ 2۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے آیت والذین جاء و من بعد ہم کے بارے میں روایت کیا کہ ان کے یے استغفار کا حکم کیا گیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں جو انہوں نے دین میں نئی نئی باتیں نکالیں۔ 3۔ عبداللہ بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن الانباری فی المصاحف وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ان کو حکم دیا گیا کہ نبی ﷺ کے اصحاب کے لیے استغفار کرو مگر انہوں نے ان کو گالیاں دیں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی آیت والذین جاء و من بعدہم یقلون ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان۔ 4۔ ابن مردویہ نے ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ بعض مہاجرین کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔ تو انہوں نے اس پر یہ آیت پڑھی آیت للفقراء المہاجرین (الآیۃ) پھر فرمایا یہ لوگ مہاجرین ہیں اور کیا تو ان میں سے ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر آپ نے اس پر یہ آیت پڑھی آیت والذین تبوؤ الدار والایمان (الآیۃ) پھر فرمایا یہ لوگ انصار ہیں کیا تو ان میں سے ہے ؟ اس نے کہا میں اس کی امید رکھتا ہوں پھر فرمایا نہیں۔ جو ان کو گالیاں دے وہ ان میں سے نہیں ہوسکتا۔ 5۔ ابن مردویہ نے دوسری سند سے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ ایک آدمی نے عثمان ؓ کو برا کہا تو انہوں نے اس کو بلایا اور اس کو سامنے بٹھا کر یہ آیت پڑھی آیت للفقراء المہاجرین الایۃ۔ پھر فرمایا تو ان میں سے ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت والذین جاء و من بعدہم پھر فرمایا تو ان لوگوں میں سے نہیں ہوتا جو ان کو برا کہے۔ اور اسکے دل میں ان کے خلاف کینہ ہو۔ 6۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا۔ آیت ربنا لا تجعل فی قلوبنا غلا الذین اٰمنوا اور ہمارے دلوں میں ان ایمان والوں کے لیے کینہ پیدا نہ کردینا۔ حسد وکینہ سے محفوظ شخص جنتی ہے 7۔ الحکیم الترمذی والنسائی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے۔ آپ نے فرمایا ابھی ایک آدمی اہل جنت میں سے آئے گا۔ تو انصار میں سے ایک آدمی آیا۔ جس کی داڑھی سے وضو کا پانی بہہ رہا تھا اور وہ اپنی جو تیوں کو اپنے بائیں ہاتھ میں لٹکائے ہوئے تھا۔ جب دوسرا دن ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابھی ایک آدمی اہل جنت میں تم پر آئے گا۔ تو وہی آدمی اپنی پہلی حالت کی طرح آیا۔ پھر جب اگلا دن ہوا یعنی تیسرا دن تو رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا۔ وہی آدمی پھر آیا جب وہ آدمی کھڑا ہوا تو عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ اس کے پیچھے چل دئیے اور فرمایا میرا اپنے باپ سے جھگڑا ہوگیا ہے اور میں نے یہ قسم کھائی ہے کہ میں اس کے پاس تین دن تک نہیں جاؤں گا تو مناسب خیال کرے تو مجھے اپنے پاس پناہ دے دے۔ تاکہ میری قسم کھل جائے کیا میں ایسا کرلوں۔ اس نے جواب دیا ہاں۔ انس ؓ نے فرمایا عبداللہ بن عمرو ؓ بیان فرماتے تھے کہ انہوں نے ایک رات اس کے ساتھ گذاری۔ اور انہوں نے اسے کسی وقت بھی رات کو کھڑا ہوتے نہیں دیکھا۔ سوائے اس کے کہ وہ اپنے بسترے پر کروٹیں بدلتا تھا سوائے اس کے کہ جب اپنے بستر پر کروٹ بدلتا تو اللہ کا ذکر کرتا اور اس کی عظمت اور کبریائی کا ذکر کرتا یہاں تک کہ وہ فجر کی نماز کے لیے کھڑا ہوگیا۔ اس نے اچھی طرح وضو کیا مگر میں نے اسے کلمہ خیر کہنے کے بغیر کچھ کہتے نہیں سنا۔ جب تین راتیں گزر گئیں اور قریب تھا کہ میں اس کے عمل کو حقیر جانتا میں نے کہا اے اللہ کے بندے ! میرے اور میرے والد کے درمیان نہ کوئی جھگڑا اور ناراضگی ہے اور نہ کوئی فراق اور جدائی ہے۔ لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو تیرے لیے تین مرتبہ تین مجلسوں میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ ابھی تم پر ایک آدمی اہل جنت میں سے داخل ہوگا۔ اور تینوں مرتبہ تو ہی آیا۔ تو میں نے ارادہ کیا کہ میں تیرے پاس ٹھہروں اور دیکھوں تیرا کیا عمل ہے پس جب میں وہ دیکھ چکا تو میں وہاں سے واپس آگیا۔ جب میں نے پیٹھ پھیری تو اس نے مجھے بلایا اور کہا عمل تو وہی ہے جو تو نے دیکھا سوائے اس کے کہ میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے بارے میں کینہ اور حسد نہیں رکھتا یہ سن کر عبداللہ بن عمرو ؓ نے اس سے فرمایا یہی وہ عمل جس نے مجھے جنت میں پہنچا دیا یہ وہ ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔ 8۔ الحکیم الترمذی نے عبدالعزیز بن ابی داوٗد (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب بناز سے فارغ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ آدمی جنت والوں میں سے ہے۔ عبداللہ بن عمرو ؓ نے فرمایا کہ میں اس کے پاس آیا میں نے کہا اے میرے چچا کیا آپ میری مہمان نوازی کرسکتے ہیں ؟ اس نے کہا ہاں اس کا ایک خیمہ ایک بکری اور ایک کھجور کا درخت تھا۔ جب شام ہوئی تو وہ اپنے خیمے سے نکلا بکری کو دوہا اور میرے لیے تازہ کھجوروں کو چنا۔ پھر اس نے کھانا رکھا اور میں نے اس کے ساتھ کھایا اس نے سو کر رات گزاری اور میں نے قیام کرتے ہوئے رات گذاری اس نے صبح کو اس حال میں کہ وہ روزے سے نہ تھا اور میں نے روزے کی حالت میں صبح کی۔ پس اس نے تین رات ایسا ہی کیا پھر میں نے اس سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تیرے بارے میں فرمایا تو اہل جنت میں سے ہے۔ مجھے بتا تیرا کیا عمل ہے ؟ اس نے کہا اس کے پاس جاؤ جس نے تجھے یہ خبر دی ہے یہاں تک کہ تجھ کو میرے عمل کے بارے میں بتادے گا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ نے فرمایا اس کے پاس جاؤ اور اس کو حکم کرو کہ وہ تجھ کو بتائے۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ حکم فرماتے ہیں کہ تو مجھ کو اپنے عمل کے بارے میں بتائے۔ اس نے کہا کیا ابھی بتاؤں ؟ میں نے کہا ہاں۔ پھر اس نے کہا اگر میرے لیے ساردی دنیا ہو پھر وہ مجھ سے لے لی جائے تو مجھے اس پر کوئی غم نہیں اور وہ دنیا مجھ کو دے دی جائے تو مجھے اس سے کوئی خوشی نہیں اور میں اس حال میں سوتا ہوں۔ میرے دل میں کسی کے بارے میں کوئی کینہ اور بغض نہیں۔ عبداللہ ؓ نے فرمایا لیکن میں اللہ کی قسم ! رات کو قیامت کرتا ہوں اور دن کو زندہ رکھت اہوں۔ اگر مجھے بکری ہبہ کی جائے تو مجھے اس سے خوشی ہوگی اور اگر وہ مجھ سے لے لی جائے تو میں یقینی طور پر اس پر غمزدہ ہوں گا۔ اللہ کی قسم ! یقینی طور پر اللہ نے تجھ کو ہم پر انتہائی واضح اور روشن فضیلت دی ہے۔
Top