Al-Qurtubi - Al-Insaan : 13
مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ
مُّتَّكِئِيْنَ : تکیہ لگائے ہوں گے فِيْهَا : اس میں عَلَي الْاَرَآئِكِ ۚ : تختوں پر لَا يَرَوْنَ : وہ نہ دیکھیں گے فِيْهَا : اس میں شَمْسًا : دھوپ وَّلَا : اور نہ زَمْهَرِيْرًا : سردی
ان میں وہ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں نہ دھوپ (کی حدت) دیکھیں گے نہ سردی کی شدت
متکئین فیھا علی الارائک۔ ھاضمیر سے مراد جنت ہے متکئن کو ھم ضمیر سے حال ہونے کی وجہ سے نصب دی گئی ہے اس حال میں عامل جزی ہے صبرو اس میں عامل نہیں ہے کیونکہ صبر دنیا میں تھا اور الاتکاء آخرت میں ہوگا فراء نے کہا اگر تو چاہے تو متکئین کو صفت بنالے گویا کلام یوں ہوگی، جزاھم متکئین فیھا۔ خیموں میں پلنگوں پر، یہ بحث پہلے گزرچکی ہے عربوں سے کچھ ایسے اسماء آئے ہیں جو چند صفات پر مشتمل ہیں ان میں سے ایک الاری کہ بھی ہے یہ نہیں بولا جاتا مگر ایسے پردے کیے لیے جو چارپائی پر بنایا گیا ہو انہیں میں سے ایک سجل ہے وہ پانی سے بھرا ہوا ڈول ہے جب وہ پانی سے خالی ہو تو اسے سجل نہیں کہتے، اسی طرح ذنوب ہے انہیں ذنوب نہیں کہتے مگر جب انہیں بھراجائے، کاس کو کاس نہیں کہتے جب تک وہ شراب سے چھلک نہ رہا ہو، اسی طرح طبق ہے جب اس پر ہدیہ رکھ کر بھیجا جائے تو اسے مھدی کہتے ہیں جب وہ تحفہ سے فارغ ہوتوا سے طبق اور خوان کہتے ہیں ذورمہ نے کہا : خدود جفت فی السیر حتی کا نما، یباشرون بالمعراء مس الارائک۔ اس شعر میں الارائک سے مراد ایسے بستر ہیں جو چارپائیوں پر ہیں۔ لایرون فیھا شمسا ولازمھریرا۔ وہ جنت میں سورج کی گرمی جیسی گرمی نہ دیکھیں گے اور نہ ہی سخت ٹھنڈک۔ منعمۃ طفلۃ کالمھا، لم ترشمسا ولازمھریرا۔ وہ نیل گائے کی طرح آسودہ اور نرم ونازل ہے اس نے نہ گرمی اور نہ ٹھنڈک دیکھی ہے۔ ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، جہنم نے اللہ تعالیٰ کے حضور شکایت کی، اے میرے رب میرا بعض بعض کو کھائے جارہا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دوسانسیں بنادیں ایک سانس موسم سرما میں اور ایک سانس موسم گرما میں، تم جو سخت سردی پاتے ہو یہ جہنم کا زمھریرا ہے اور موسم گرما میں تم جو سخت گرمی پاتے ہو یہ جہنم کی باد سموم ہے۔ نبی کریم سے مروی ہے جنت کی آب واہوا سجسج ہے نہ گرم، نہ سرد، سجسج سے مراد لمباساہ ہے جس طرح سورج کے طلوع اور غروب کے وقت ہوتا ہے، مرہ ہمدانی نے کہا، زمھریرا سے مراد سخت سردی ہے مقاتل بن حیان نے کہا، یہ سوئی کے ناکے کی مثل کوئی چیز ہے جو آسمان سے سخت سردی کے وقت نازل ہوتی ہے حضرت ابن مسعود نے کہا، یہ عذاب کی ایک صورت ہے جو سخت سردی ہے یہاں تک کہ جہنمیوں کو جب اس میں پھینکا جائے گا تو وہ اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے انہیں آگ میں ایک ہزار سال کا عذاب زمھریر کے ایک دن کے عذاب سے آسان ہے۔ ابوالنجم نے کہا، اوکنت ریحا کنت زمھریرا یا میں ہوا تھا میں زمھریرا تھا۔ ثعلب نے کہا، زمھریر سے مراد طے کی لغت میں چاند ہے ان کے شاعر نے کہا : ولیلۃ ظلامھا قد اعتکر قطع تھا والزمھریر مازھر۔ کتنی ہی راتیں ہیں جن کی تاریکی ہت زیادہ تھی میں نے انہیں طے کیا جب کہ چاند طلوع نہ ہوا۔ معنی یہ ہے وہ دنیا کے سورج کی طرح اس میں سورج اور دنیا کے چاند کی طرح اس میں چاند نہیں دیکھیں گے یعنی وہ دائمی روشنی میں ہوں گے نہ رات ہوگی اور نہ دن ہوگا کیونکہ دن کی روشنی سورج کے ساتھ اور رات کی روشنی چاند کے ساتھ ہوگی۔ اس کے بارے میں مفصل گفتگو سورة مریم مین، ولھم رزقھم فیھا بکرۃ وعشیا۔ مریم) ان کے لیے اس میں صبح وشام ان کا رزق ہوگا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا، اس اثنا میں کہ جنتی جنت میں ہوں گے کہ وہ نور دیکھیں گے جسے وہ سورج گمان کریں گے اس نور کی وجہ سے جنت روشن ہوجائے گی وہ کہیں گے ہمارے رب تو نے فرمایا، لایرون فیھا شمسا ولازمھریرا۔ تو یہ نور کیسا ہے ؟ رضوان انہیں کہے گا یہ سورج اور چاند نہیں بلکہ یہ حضرت فاطمہ اور حضر تعلی مسکرائے ہیں ان کے ہنسنے کے نور سے جنتیں روشن ہوگئیں انہیں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ھل اتی علی الانسان۔ اور یہ شعر پڑھا۔ میں ایسے نوجوان کامولی ہوں جس کے بارے میں ھل اتی نازل ہوا۔ وہ علی المرتضی اور مصطفیٰ (علیہ السلام) کے چچازاد ہیں۔
Top