Tafseer-e-Usmani - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور جنہوں نے کہ حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کیا نماز کو اور کام کرتے ہیں مشورہ سے آپس کے2 اور ہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں
2  مشورہ سے کام کرنا اللہ کو پسند ہے دین کا ہو یا دنیا کا۔ نبی کریم ﷺ مہمات امور میں برابر اصحاب ؓ سے مشورہ فرماتے تھے اور صحابہ آپس میں مشورہ کرتے تھے حروب وغیرہ کے متعلق بھی اور بعض مسائل و احکام کی نسبت بھی۔ بلکہ خلافت راشدہ کی بنیاد ہی شوریٰ پر قائم تھی۔ یہ ظاہر ہے کہ مشورہ کی ضرورت ان کاموں میں ہے جو مہتم بالشان ہوں اور جو قرآن و سنت میں منصوص نہ ہوں۔ جو چیز منصوص ہو اس میں رائے و مشورہ کے کوئی معنی نہیں۔ اور ہر چھوٹے بڑے کام میں اگر مشورہ ایسے شخص سے لیا جائے جو عاقل و عابد ہو۔ ورنہ اس کی بیوقوفی یا بددیانتی سے کام خراب ہوجانے کا اندیشہ رہے گا۔
Top