Madarik-ut-Tanzil - Al-Kahf : 65
قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ
قَالَ : اس نے کہا ذٰلِكَ : یہ مَا كُنَّا نَبْغِ : جو ہم چاہتے تھے فَارْتَدَّا : پھر وہ دونوں لوٹے عَلٰٓي : پر اٰثَارِهِمَا : اپنے نشانات (قدم) قَصَصًا : دیکھتے ہوئے
(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا
65: فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا (پس ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا) عبد سے مراد خضر ہیں نمبر 1۔ جو ایک کپڑے کے نیچے آرام فرما رہے تھے۔ نمبر 2۔ سمندر میں بیٹھے تھے۔ اٰتَیْنٰہٗ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَا (جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت عطاء کی تھی) رحمت سے مراد وحی، نبوت نمبر 2۔ علم نمبر 3۔ طول حیات وَعَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا (اور اس کو ہم نے اپنی طرف سے علم دیا تھا) اخبار غیوب کا علم نمبر 2۔ علم لدنی جو بطور الہام کے بندے کو ملتا ہے۔
Top