Ahsan-ul-Bayan - Saad : 62
وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے مَا لَنَا : کیا ہوا ہمیں لَا نَرٰى : ہم نہیں دیکھتے رِجَالًا : وہ لوگ كُنَّا نَعُدُّهُمْ : ہم شمار کرتے تھے انہیں مِّنَ : سے الْاَشْرَارِ : (جمع) شریر (بہت برے)
اور جہنمی کہیں گے کیا یہ بات ہے کہ وہ لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے (1
62۔ 1 اَ شْرَار سے مراد فقراء مومنین ہیں، جیسے عمار، جناب، بلالو سلیمان وغیرہم ؓ ، انہیں رؤسائے مکہ ازراہ خبث برے لوگ کہتے تھے اور اب بھی اہل باطل حق پر چلنے والوں کو بنیاد پرست، دہشت گرد، انتہا پسند وغیرہ القاب سے نوازتے ہیں۔
Top