Tafheem-ul-Quran - Saad : 62
وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے مَا لَنَا : کیا ہوا ہمیں لَا نَرٰى : ہم نہیں دیکھتے رِجَالًا : وہ لوگ كُنَّا نَعُدُّهُمْ : ہم شمار کرتے تھے انہیں مِّنَ : سے الْاَشْرَارِ : (جمع) شریر (بہت برے)
اور وہ آپس میں کہیں گے ”کیابات ہے ، ہم اُن لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم  دنیا میں بُرا سمجھتے تھے؟ 55
سورة صٓ 55 مراد ہیں وہ اہل ایمان جن کو یہ کفار دنیا میں برا سمجھتے تھے۔ مطلب یہ کہ وہ حیران ہو ہو کر ہر طرف دیکھیں گے کہ اس جہنم میں ہم اور ہمارے پیشوا تو موجود ہیں مگر ان لوگوں کا یہاں کہیں پتہ نشان تک نہیں ہے جن کی ہم دنیا میں برائیاں کرتے تھے اور خدا، رسول، آخرت کی باتیں کرنے پر جن کا مذاق ہماری مجلسوں میں اڑایا جاتا تھا۔
Top