Mutaliya-e-Quran - Saad : 62
وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے مَا لَنَا : کیا ہوا ہمیں لَا نَرٰى : ہم نہیں دیکھتے رِجَالًا : وہ لوگ كُنَّا نَعُدُّهُمْ : ہم شمار کرتے تھے انہیں مِّنَ : سے الْاَشْرَارِ : (جمع) شریر (بہت برے)
اور وہ آپس میں کہیں گے "کیا بات ہے، ہم اُن لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں برا سمجھتے تھے؟
وَقَالُوْا [اور وہ کہیں گے ] مَا لَنَا [ہمیں کیا ہے (کہ)] لَا نَرٰى [ہم نہیں دیکھتے ] رِجَالًا [ایسے مردوں کو ] كُنَّا نَعُدُّهُمْ [ہم شمار کرتے تھے جن کو ] مِّنَ الْاَشْرَارِ [برے لوگوں میں سے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 62 میں رجالا سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جن کو یہ کفار دنیا میں تمام برائیوں کی جڑ سمجھتے تھے۔ وہ حیران ہوکر ہر طرف دیکھیں گے کہ اس جہنم میں ہم اور ہمارے پیشوا تو موجود ہیں مگر ان لوگوں کا یہاں کہیں پتہ نشان تک نہیں ہے جن کی ہم دنیا میں برائیاں کرتے تھے اور خدا، رسول، آخرت کی باتیں کرنے پر جن کا مذاق ہماری مجلسوں میں اڑایا جاتا تھا۔ (تفہیم القرآن سے ماخوذ)
Top