Dure-Mansoor - Saad : 62
وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے مَا لَنَا : کیا ہوا ہمیں لَا نَرٰى : ہم نہیں دیکھتے رِجَالًا : وہ لوگ كُنَّا نَعُدُّهُمْ : ہم شمار کرتے تھے انہیں مِّنَ : سے الْاَشْرَارِ : (جمع) شریر (بہت برے)
اور وہ کہیں گے کیا بات ہے ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہیں ہم اشرار یعنی برے لوگوں میں شمار کرتے تھے
1:۔ عبد بن حمید (رح) وان جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن عساکر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقالوا مالنا لا نری رجالا کنا نعدھم من الاشرار “ (اور وہ کہیں گے کیا بات ہے کہ دوزخ میں ہم کو وہ لوگ دکھائی نہیں دیتے جن کو ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے) یہ ابوجہل بن ہشام کا قول ہوگا دوزخ میں میرے لئے کیا بات ہے کہ میں بلال کو عمار کو صہیب کو اور خباب کو ؓ اور فلاں کو نہیں دیکھتا (آیت ) ” اتخذنہم سخریا “ ہم ان کا مذاق اڑاتے تھے اور وہ ایسے نہیں تھے (آیت ) ” ام زاغت عنہم الابصار “ (یا ان سے ہماری نگاہ چوک رہی ہے) یا وہ آگ میں تو ہیں اور ہم ان کو نہیں دیکھ رہے۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقالوا مالنا لا نری رجالا کنا نعدھم من الاشرار “ کہ اس سے وہ عبداللہ بن مسعود ؓ اور ان کے ساتھیوں کو مراد لیتے تھے۔ 3:۔ عبد بن حمید والمنذر (رح) علیہ نے شمر بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقالوا مالنا لا نری رجالا “ سے مراد ہے کہ ابو جہل یہ بات آگ میں کہے گا کہ خباب کہاں ہے ؟ صہیب کہاں ہے ؟ بلال کہاں ہے ؟ عمار کہاں ہے ؟۔ 4:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقالوا مالنا لا نری رجالا کنا نعدھم من الاشرار “ سے مراد ہے کہ وہ جنت والوں کو نہ پائیں گے (اور کہیں گے) ( (رح) علیہ آیت ) ” اتخذنہم سخریا ام زاغت الابصار “ یعنی یا وہ ہمارے ساتھ ہیں آپ میں اور ہم ان کو نہیں دیکھ رہے زاغت یعنی ہماری آنکھیں ان سے چوک گئیں اور ان کو نہیں دیکھا گیا جب وہ آگ میں داخل کئے گئے۔
Top