Tadabbur-e-Quran - Saad : 62
وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے مَا لَنَا : کیا ہوا ہمیں لَا نَرٰى : ہم نہیں دیکھتے رِجَالًا : وہ لوگ كُنَّا نَعُدُّهُمْ : ہم شمار کرتے تھے انہیں مِّنَ : سے الْاَشْرَارِ : (جمع) شریر (بہت برے)
اور وہ کہیں گے، کیا بات ہے ہم ان لوگوں کو یہاں جنہیں دیکھ رہے ہیں جن کو ہم اشرار میں سے شمار کرتے تھے۔
وقالو مالنا لا نری رجالا کنا نعدھم من الاشرار، اتخدنھم سخریا ام فاحث عنھم الاصبار (63-62) پھر یہ سوال ان کے اندر پیدا ہوگا کہ آخر وہ لوگ کہاں ہیں جن کو ہم اشرار میں شمار کرتے تھے کہ یہ آبائی کے دشمن، ہمارے دیوتائوں کی توہین کرنے والے اور ہماری قومی وحدت پر ضرب لگانے والے ہیں ڈ کیا ہم نے محض شرارت سے ان کا مذاق اڑایا اور ان کو مفسد ٹھہرایا درآحالی کہ وہ صالحین میں سے تھے یا وہ بھی یہاں موجود ہیں لیجن ہم کو وہ نظر نہیں آ رہے ہیں ؟ یہ سوال غالباً وہ لوگ کریں گے جو اس دنیا میں جانتے تھے کہ جن مسلمانوں کو ہمارے لیڈر ہدف مطاعن بنائے ہوئے ہیں وہ اچھے لوگ ہیں لیکن وہ اپنے لیڈروں سے مرعوب ہونے کی باعث ان کے حق میں کوئی کلمہ خیر کنے کی جرأت نہ کرسکے۔
Top