Al-Qurtubi - Saad : 62
وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے مَا لَنَا : کیا ہوا ہمیں لَا نَرٰى : ہم نہیں دیکھتے رِجَالًا : وہ لوگ كُنَّا نَعُدُّهُمْ : ہم شمار کرتے تھے انہیں مِّنَ : سے الْاَشْرَارِ : (جمع) شریر (بہت برے)
اور کہیں گے کیا سبب ہے کہ (یہاں) ہم ان شخصوں کو نہیں دیکھتے جن کو بروں میں شمار کرتے تھے
62 ۔ 64:۔ و قالو یعنی مشرکین کے اکابر نے کہا : کیا وجہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو یہاں نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم شریر شمار کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : وہ اشرار سے مراد حضرت محمد ﷺ کے صحابہ لیتے۔ ابو جہل کہے گا : بلال کہاں ہے ‘ صہیب اور عمار کہاں ہے ؟ وہ فردوس میں ہونگے۔ ابو جہل پر تعجب ہے وہ بیچارہ مسکین ‘ اس کا بیٹا حضرت عکرمہ مسلمان ہوگیا اس کی بیٹی جو یریہ مسلمان ہوگئی اس کی ماں مسلمان ہوگئی اور اس کا بھائی مسلمان ہوگیا جب کہ اس نے کفر کیا۔ شاعر نے کہا : و نورا اضاء الارض شرقا و مغربا و موضع رجلی منہ اسود مظلم وہ نور جس نے زمین کے مشرق و مغرب کردیا اور میرے قدم کی جگہ اس سے تاریک و سیاہ ہے۔ اتخذنھم سخریا مجاہد نے کہا : ہم نے دنیا میں ان کا مذاق اڑایا تو ہم نے غلطی کی آم زغت عنھم الابصار۔ یا ہماری آنکھیں سے پھر گئی ہیں تو ہم ان کا مکان نہیں جانتے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : انہوں نے یہ سب کچھ کیا تھا ‘ انہوں نے صحابہ کا مذاق اڑایا اور دنیا میں ان کی آنکھیں ان کی آنکھیں ان سے پھر گئی تھیں کیونکہ وہ انہیں حقیر خیال کرتے تھے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : امر زاغت عنھم الابصار کا معنی ہے کیا وہ ہمارے ساتھ جہنم میں ہی ہیں ہم انہیں دیکھتے نہیں ابن کثیر ‘ اعمش ‘ ابو عمرو ‘ حمزہ اور کسائی من الاشرار۔ اتخذنہم پڑھا کرتے تھے یعنی ہمزہ وصلی کو حذف کرتے تھے۔ ابو جعفر ‘ شیبہ ‘ نافع ‘ عاصم اور ابن عامر اتخذناھم پڑھا کرتے تھے یعنی ہمزہ استفہام کا ہمزہ قطعی پڑھتے اور ہمزہ وصل ساقط ہوگیا کیونکہ اب اس سے استفناء ثابت ہوچکی ہے جس نے الف کے حذف کے ساتھ پڑھا تو وہ الاشرار پر وقف نہیں کرے گا کیونکہ اتخذنا ھم حال ہے۔ نحاس اور سبحستانی نے کہا : یہ رجال کی صفت ہے ابن انباری نے کہا : یہ غلط ہے کیونکہ لغت نہ تو ماضی کا صیغہ ہوتا ہے نہ ہی مستقبل کا صیغہ ہوتا ہے۔ جس نے اتخذناھم ہمزہ قطعی کے ساتھ پڑھا ہے اس نے الاشرار پر وقف کیا۔ فراء نے کہا : یہاں استفہام تو بیخ اور تعجب کے لئے ہے جب تو اتخذناھم کو استفہام کے ساتھ پڑھے تو ام تسویہ کے لئے ہوگا جب تو استفہام کے بغیر پڑھے تو یہ بل کے معنی میں ہوگا۔ ابو جعفر ‘ نافع شیبہ ‘ مفضل ‘ ہبیرہ ‘ یحییٰ ‘ اعمش ‘ حمزہ اور کسائی نے سخرنا پڑھا ہے باقی نے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عبیدنے کہا : جس نے اس کو کسرہ دیا اس نے اسے ھزء سے بنایا ہے اور جس نے اس کو ضمہ دیا اس کے معنی تخسیر کیا۔ یہ بحث پہلے گذر چکی ہے۔ ان ذلک لحق تخاصم اھل النار۔ لحق ان کی خبر اور تخاصم یہ مبتدا مخدوف کی خبر ہے تقدیر کلام یہ ہوگا ھو تخاصم یہ بھی جائز ہے کہ یہ حق سے بدل ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ خبر کے بعد خبر ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ذلک سے بدل ہو معنی ہوگا جہنمیوں کا جہنم میں جھگڑا حق ہے جس طرح یہ قول : لا مرحبا بکم اور اس جیسے دوسرے اقوال۔
Top