Anwar-ul-Bayan - Saad : 62
وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے مَا لَنَا : کیا ہوا ہمیں لَا نَرٰى : ہم نہیں دیکھتے رِجَالًا : وہ لوگ كُنَّا نَعُدُّهُمْ : ہم شمار کرتے تھے انہیں مِّنَ : سے الْاَشْرَارِ : (جمع) شریر (بہت برے)
اور کہیں گے کیا بات ہے ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہیں ہم اشرار یعنی برے لوگوں میں شمار کیا کرتے ہیں
اہل دوزخ کو حیرت ہوگی جب اہل ایمان کو اپنے ساتھ نہ دیکھیں گے اہل دوزخ کہیں گے کہ ہم دنیا میں تھے تو اہل ایمان کو اور خاص کر فقرائے مومنین کو ذلیل سمجھتے تھے اور یوں بھی کہتے تھے کہ یہ اشرار ہیں یعنی برے لوگ ہیں ان میں کوئی خیر نہیں اور بعض مرتبہ ان سے یوں بھی کہہ دیتے تھے کہ تم دوزخ میں جاؤ گے ہم جنتی ہوں گے (جیسا کہ یہود اور نصاریٰ اور اہل ہنود سمجھتے ہیں) لیکن جب یہ کفار دوزخ میں پہنچیں گے اور ادھر ادھر نظر ڈالیں گے تو انہیں اہل ایمان میں سے کوئی بھی نظر نہ آئے گا نظروں کے سامنے سب کافر ہی ہوں گے اس وقت یوں کہیں گے کیا بات ہے ہم ان آدمیوں کو نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کیا کرتے تھے کیا ہم نے ناحق ان کی ہنسی کر رکھی تھی کہ انہیں دوزخی سمجھتے تھے (اور حقیقت میں وہ ایسے نہ تھے جیسا ہم نے سمجھا تھا) یا یہ بات ہے کہ وہ لوگ یہاں موجود تو ہیں لیکن ہماری آنکھیں چکرا رہی ہیں کہ ان پر نظر نہیں پڑتی اس بات کو یاد کرکے انہیں حیرت بھی ہوگی اور حسرت بھی کہ جن کا ہم نے مذاق بنایا تھا وہ تو یہاں نہ پہنچے اور ہمیں یہاں آنا پڑا۔ (اِِنَّ ذٰلِکَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَھْلِ النَّارِ ) یعنی دوزخیوں کا آپس میں جھگڑنا بالکل سچی بات ہے ایسا ضرور ہوگا۔
Top