Taiseer-ul-Quran - Saad : 62
وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ
وَقَالُوْا : اور وہ کہیں گے مَا لَنَا : کیا ہوا ہمیں لَا نَرٰى : ہم نہیں دیکھتے رِجَالًا : وہ لوگ كُنَّا نَعُدُّهُمْ : ہم شمار کرتے تھے انہیں مِّنَ : سے الْاَشْرَارِ : (جمع) شریر (بہت برے)
نیز وہ کہیں گے : کیا بات ہے کہ ہمیں وہ آدمی نظر نہیں آرہے جنہیں ہم برے لوگوں 62 میں شمار کرتے تھے۔
62 یہاں برے لوگوں سے مراد وہ کمزور مسلمان ہیں جنہیں سرداران قریش حقیر اور کمتر درجہ کے لوگ سمجھتے تھے اور ان کے ساتھ بیٹھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے اور رسول اللہ سے کہتے تھے کہ اگر لوگوں کو اپنے ہاں سے اٹھا دو ۔ تو ہم آپ کی بات توجہ سے سنیں گے۔ اور وہ تھے سیدنا بلال حبشی ؓ ، صہیب رومی ؓ ، سلمان فارسی ؓ خباب بن ارتّ ؓ ، عمار بن یاسر ؓ اور اسی طرح کے دوسرے مخلص مسلمان۔
Top