Anwar-ul-Bayan - Saad : 12
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ
كَذَّبَتْ : جھٹلایا قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے قَوْمُ : قوم نُوْحٍ : نوح وَّعَادٌ : اور عاد وَّفِرْعَوْنُ : اور فرعون ذُوالْاَوْتَادِ : میخوں والا
ان سے پہلے قوم نوح نے عاد نے اور فرعون نے جو میخوں والا تھا
گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کا تذکرہ اس کے بعد گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کا ذکر فرمایا جس میں مشرکین مکہ کے لیے عبرت ہے ارشاد فرمایا کہ ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور قوم عاد نے اور فرعون نے جو ذی الاوتاد تھا اور ثمود نے اور لوط (علیہ السلام) کی قوم نے اور اصحاب الایکہ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا یہ وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی مخالفت کو اپنا شیوہ بنایا اور اس کی سزا پائی، مزید فرمایا (اِِنْ کُلٌّ اِِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ) یہ سب وہی ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب ثابت ہوگیا، ان لوگوں کے عذاب کی تفصیلات قرآن مجید میں جگہ جگہ مذکور ہیں جنہیں عام طور سے عوام اور خواص جانتے ہیں، اصحاب الایکہ سے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی ایک امت مراد ہے جو ایکہ یعنی جھاڑیوں اور جنگلوں میں رہتے تھے ان پر ظلہ کا عذاب آیا یہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے ایک بادل کے سایہ میں کھڑے ہوگئے تھے اور وہیں ہلاک کردئیے گئے۔ (دیکھو انوار البیان تفسیر سورة شعراء) ذوالاوتاد کا معنی (ذُو الْاَوْتَادِ ) (میخوں والا) یہ لفظ فرعون کی صفت ہے اس سے کیا مراد ہے ؟ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ وہ میخوں یعنی کیلوں کے ذریعہ لوگوں کو سزا دیتا تھا، چاروں ہاتھ پاؤں چار ستونوں سے باندھ دیتا تھا اور چاروں میں ایک ایک کیل ٹھوک دیتا تھا پھر اسی طرح چھوڑ دیتا تھا جس کی جہ سے وہیں پڑے پڑے آدمی مرجاتا تھا، اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اس کی حکومت مضبوط تھی، اور ایک قول یہ ہے کہ اوتاد سے لشکر مراد ہے مطلب یہ ہے کہ فرعون کے بہت سارے لشکر تھے چونکہ لشکر جہاں پڑاؤ ڈالتے ہیں اپنے خیمے نصب کرنے کے لیے کیلیں گاڑتے ہیں اس لیے لشکروں کو اوتاد سے تعبیر کیا واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ (ذکر ہذہ الاقوال صاحب الروح)
Top