Tafheem-ul-Quran - Saad : 12
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ
كَذَّبَتْ : جھٹلایا قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے قَوْمُ : قوم نُوْحٍ : نوح وَّعَادٌ : اور عاد وَّفِرْعَوْنُ : اور فرعون ذُوالْاَوْتَادِ : میخوں والا
اِن سے پہلے توحؑ کی قوم، اور عاد، اور میخوں والا فرعون 13
سورة صٓ 13 فرعون کے لیے " ذی الا وتاد " (میخوں والا) یا تو اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا میخ پر ٹھکی ہوئی ہو۔ یا اس بنا پر کہ اس کے کثیر التعداد لشکر جہاں ٹھہرتے تھے وہاں ہر طرف خیموں کی میخیں ہی میخیں ٹھکی نظر آتی تھیں۔ یا اس بنا پر کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اسے میخیں ٹھوک کر عذاب دیا کرتا تھا۔ اور ممکن ہے کہ میخوں سے مراد اہرام مصر ہوں جو زمین کے اندر میخ کی طرح ٹھکے ہوئے ہیں۔
Top