Tafseer-e-Baghwi - Saad : 12
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ
كَذَّبَتْ : جھٹلایا قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے قَوْمُ : قوم نُوْحٍ : نوح وَّعَادٌ : اور عاد وَّفِرْعَوْنُ : اور فرعون ذُوالْاَوْتَادِ : میخوں والا
ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون (اور اسکی قوم کے لوگ) بھی جھٹلا چکے ہیں
اوتاد کی تفسیریں 12، کذبت قبلھم قوم نوح وعاد و فرعون ذوالا وتاد، حضرت ابن عباس ؓ اور محمد بن کعب نے ذوالا وتاد کا ترجمہ کیا مضبوط عمارتوں والا۔ بعض نے کہا کہ قوی پائیدار حکومت والا۔ قتیبی نے کہا کہ عرب بولتے ہیں وہ لوگ گڑھی ہوئی میخوں والی عزت کے مالک ہیں۔ یعنی لازوال قوی عزت ان کو حاصل ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے مضبوط قوت گرفت والا ۔ عطیہ نے کہا کثیر لشکروں والا اور بڑے جتھوں والا جس طرح کسی چیز کو مضبوط بنانے کے لیے اس میں کیلیں یا میخیں تھونک دی جاتی ہیں اسی طرح فرعون کی قوم نے اپنی حکومت اور اقتدار کو مضبوط اور طاقت وربنارکھا تھا۔ فوجوں کی میخیں (اوتاد) اس لیے کہاجاتا ہے کہ سفر کی حالت میں پڑاؤپر وہ بہت سے ڈیرے ، خیمے لگاتے اور میخوں سے ان کو باندھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول عطیہ سے یہی آیا ہے ۔ کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ نے کہا کہ اوتاد وتد کی جمع ہے۔ فرعون جب کسی پر عتاب کرتا تھا تو اس کو چت کرکے زمین سے کچھ اوپر ہر ہاتھ اور ٹانگ ایک ایک ستون میں ٹھونک دیتا تھا۔ اسی طرح وہ چت معلق رہتا تھا، نہ اوپر جاسکتا تھا اور نہ نیچے زمین پر گرسکتا تھا۔ اسی طرح مرجاتا تھا۔ مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ جس شخص کو سزادینی ہوتی فرعون اس کو زمین پرچت لٹاتا، پھر اس کے ہاتھ پاؤں علیحدہ علیحدہ پھیلا کرچومیخا کردیتا تھا۔ سدی کا قول ہے کہ چومیخا مضبوط کرکے بچھو اور سانپ اس پر چھوڑدیتا تھا۔ قتادہ اور عطاء (رح) نے کہا کہ فرعون کے پاس کچھ پارٹیاں تھیں ، کھیل کے میدان تھے، میخیں تھیں ، اس کے سامنے کھلاڑی میخوں پر کھیلتے تھے اور کرتب دکھاتے تھے۔
Top