Ashraf-ul-Hawashi - Saad : 12
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ
كَذَّبَتْ : جھٹلایا قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے قَوْمُ : قوم نُوْحٍ : نوح وَّعَادٌ : اور عاد وَّفِرْعَوْنُ : اور فرعون ذُوالْاَوْتَادِ : میخوں والا
ان کافروں سے پہلے نوح کی قوم والوں نے اور عاد نے اور فرعون نے جو میخوں والا تھا3
3 فرعون کو میخوں والا کہنے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اس کے ہاتھ پائوں میں میخیں ٹھکوا کر سزا دیا کرتا تھا یا یہ کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا زمین میں میخ ٹھکی ہوئی ہے۔ یا اس کا لشکر کثیر تھا اور جہاں ٹھہرتے ہر طرف میخیں ہی میخیں نظر آتیں۔ واللہ اعلم ( شوکانی)
Top