Al-Qurtubi - Saad : 12
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ
كَذَّبَتْ : جھٹلایا قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے قَوْمُ : قوم نُوْحٍ : نوح وَّعَادٌ : اور عاد وَّفِرْعَوْنُ : اور فرعون ذُوالْاَوْتَادِ : میخوں والا
ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون (اور اسکی قوم کے لوگ) بھی جھٹلا چکے ہیں
12 ۔ 14:۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر نبی کریم ﷺ کے لئے تعزیت اور آپ کی تسلی کے لئے کیا یعنی اے محمد ! ﷺ یہ تیری قوم کے لوگ ہیں متقدمہ قوموں کے لشکر ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کے خلاف لشکر کشی کی وہ لوگ ان سے زیادہ طاقتور تھے پس انہیں ہلاک کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم کو بانیث کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا (1) علماء عرب نے اس بارے میں دو قول نقل کئے ہیں : (1) اس میں تذکیرو تانیث جائز ہے (2) یہ مذکر ہے اس کی تانیث جائز نہیں مگر اس صورت میں کہ معنی عشیرہ اور قبیلہ پر واقع ہو تو لفظ میں اس معنی کا حکم غالب ہوگا جو معنی مضمر ہے مقصود اس پر تنیہ کرنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کلا انھا تزکرۃ۔ فمن شاء ذکرہ ‘۔ ) عبس ( یہاں اسے ذکر نہیں کیا کیونکہ جب اس پر مضمیر معنی مذکر تھا تو اسے مذکر ذکر کیا گیا اگرچہ لفظ تانیث کا تقاضا کرتا ہے۔ فرعون کی صفت ذوالا و تاد سے ذکر کی اس کی تاویل میں اختلاف کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : معنی ہے مضبوط عمارتوں والا۔ ضحاک نے کہا : وہ بیشمار عمارتوں والا تھا اور عمارتوں کو اوتاد کہتے ہیں (2) ۔ حضرت ابن عباس ‘ قتادہ اور عطا سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کے کیل ‘ رسیاں اور کھیل کے میدان تھے جن پر اس کے لئے کھیلا جاتا تھا۔ ضحاک سے یہ بھی مروی ہے کہ قوت پکڑ والا تھا۔ کلبی اور مقاتل نے کہا : وہ لوگوں کو کیلوں کے ذریعے عذاب دیا کرتا تھا جب وہ کسی پر ناراص ہوتا تو زمین پر چار کیل گاڑھ کے ان کے درمیان چت لٹا دیتا تھا اور اس پر بچھو اور سانپ چھوڑ دیتا یہاں تک کہ وہ مر جاتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عذاب دیے جانے والے شخص کو چار ستونوں پر تان دیتا اس انسان کی ایک جانب ایک ستون کی طرف ہوتی جس میں لوہے کا ایک کیل گڑھا ہوتا اور اسے چھوڑ دیتا یہاں تک کہ وہ مر جاتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ذوالا وتاد سے مراد کثیر لشکروں والا ہے۔ جنود کو اوتاد کہا گیا ہے کیونکہ وہ اس امر کو قوی بناتا ہے جس طرح کیل گھر کو قوی بناتا ہے۔ ابن قیتبہ نے کہا : عرب کہتے ہیں : ھم فی عزثابت الاو تاد وہ ارادہ کرتے ہیں ان کے لئے دائمی اور قوی عزت ہے۔ اس کی اصل گھر بالوں کے خیمے ہوتے وہ میخوں کے ساتھ ہی مضبوط اور قوی ہوتے۔ اسود بن یعلر نے کہا : و لقد عنوا فیھا با نعم عیشۃ فی ظل ملک ثابت الاو تاد (1) وہ زندگی کی نعمتوں کے ساتھ اس میں مستغنی ہوئے ایسے کے سایہ میں جو مضبوط ہے۔ اوتاد کی واحد و تد ہے یہ تاء کے کسرہ کے ساتھ ہے اور و تد بھی اس میں ایک لغت ہے۔ اصمعی نے کہا : یہ کہا یہ کہا جاتا ہے و تدو اتد جس طرح یہ کہا جاتا ہے : شعل شاغل۔ کہا : بعض اوقات آدمی کو جذل سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اصحت لیکۃ سے مراد اصحاب غیضہ ہیں اس کا ذکر سورة شعرا میں گذر چکا ہے۔ نافع ‘ ابن کثیر اور ابن عامر نے اسے لی کہ ہمزہ کے بغیر پڑھا ہے باقی قراء نے ہمزہ اور تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کا ذکر بھی پہلے گذر چکا ہے۔ یہی لوگ قوت اور کثرت اور متصف تھے جس طرح تو کہتا ہے : فلان ھو الرجل ‘ ان کل یہاں ان ‘ ما کے معنی ہے فحق عقاب یعنی اس جھٹلانے کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہوا یععقوب نے عذابی اور عقابی میں یاء کو دونوں حالتوں میں ثابت رکھا ہے اور باقی قراء نے اسے دونوں حالتوں میں حذف کیا ہے اس آیت کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : و قال الذی امن یقوم انی اخاف علیکم مثل یوم الاحزاب۔ مثل داب قوم نوح و عادو ثمود) غافر ( ان امتوں کو احزاب کا نام دیا گیا۔
Top