Tafseer-e-Saadi - Saad : 12
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِۙ
كَذَّبَتْ : جھٹلایا قَبْلَهُمْ : ان سے پہلے قَوْمُ : قوم نُوْحٍ : نوح وَّعَادٌ : اور عاد وَّفِرْعَوْنُ : اور فرعون ذُوالْاَوْتَادِ : میخوں والا
ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون (اور اسکی قوم کے لوگ) بھی جھٹلا چکے ہیں
آیت 12 اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمر بستہ تھیں :: (آیت) ” قوم نوح اور عاد “ جو کہ حضرت ہود کی قوم تھی : (آیت) ” اور میخوں والا فرعون “ یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا (وثمود) ” اور ثمود “ صالح کی قوم (وقوم لوط واصحب لئکۃ) ” اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ ‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیب کی قوم ہے۔ (اولئک الاحزاب) جنہوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی ساز و سامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لئے جمع کیا، مگر یہ سب کچھ ان کے کسی کام نہ آیا۔ (ان کل) ” نہیں تھا کوئی “ گروہ ان میں سے (الا کذب الرسل فحق) ” مگر انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ثابت ہوگا ی “ ان پر (عقاب) ” عذاب میرا “ یعنی اللہ تعالیٰ کا وہ کون سی چیز ہے جو انہیں پاک اور طاہرہ رکھ سکتی ہے کہ ان پر وہ عذاب نازل نہ ہو جو گزشتہ قوموں پر نازل ہوا۔ پس یہ لوگ انتظار کریں : (آیت) ” صرف ایک زور کی آواز کا جس میں کوئی وقفہ نہیں ہوگا۔ یعنی اب اس عذاب کو روجنا اور اس کا واپس ہونا ممکن نہیں۔ اگر یہ اپنے شرک اور انھی اعمال پر قائم رہے تو یہ چنگھڑا انہیں ہلاک کر کے ان کا استیصال کر ڈالے گی۔
Top