Dure-Mansoor - Saad : 49
هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ : یہ ایک نصیحت وَاِنَّ : اور بیشک لِلْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں کے لیے لَحُسْنَ : البتہ اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
یہ ایک نصیحت ہے اور بلاشبہ پرہیزگاروں کے لئے اچھا ٹھکانہ ہے
1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جنت عدن مفتحۃ لھم الابواب “ (ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے) یعنی اس کا باہر والا حصہ اندر ہے اور اندر والا حصہ باہر سے دکھائی دیتا ہے ان سے کہا جائے گا کھل جا اور بند ہوجا اور بات کر تو وہ اس کی بات کو سمجھ جائے گا اور اس سے بات کرے گا۔ 2:۔ سعید بن منصور وابن المنذر (رح) نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” عندھم قصرت الطرف اتراب “ نے اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والیاں ہم جولیاں حاضر ہوں گی) وہ اپنی نظروں کو اپنے خاوندوں تک محدود رکھیں گی اور ان کے علاوہ کسی اور کا ارادہ نہیں کریں گی۔ اتراب : یعنی ہم عمر۔ 3:۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی (رح) نے البعث والنشور میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتراب “ یعنی ہم مثل ہوں گی۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان ھذا لرزقنا مالہ من نفاد “ (بلاشبہ یہ ہماری عطا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی) یعنی ختم ہونا (آیت ) ” ھذا فلیذوقوہ حمیم وغساق “ (یہ کھولتا ہوا پانی اور پیپ اس کو پینا پڑے گا) ہم بیان کرتے تھے کہ ” وغساق “ وہ پیپ ہے جو اس کی کھال اور اس کے گوشت کے درمیان بہے گی۔ (آیت ) ” آخر من شکلہ ازواج (58) (اور اسی قسم کی دوسری طرح طرح کی چیزیں ان کے لئے ہوں گی) ینی اسی طرح سے دوسرے قسم کے عذاب ہوں گے۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وھناد (رح) عبد بن حمید (رح) نے ابو زرین (رح) سے روایت کیا کہ ” وغساق “ وہ ہے جو ان کی پیپ میں سے بہے گی 6:۔ ہناد (رح) نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وغساق “ سے مراد ہے کہ وہ پیپ جو ان کی کھالوں میں سے بہے گی۔ 7:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وغساق “ سے مراد ہے شدت کی سردی (آیت ) ” واخرمن شکلہ “ اور اس طرح دوسری قسم کے عذاب ازواج یعنی کسی قسم کے عذاب۔ 8:۔ ھنادبن السری فی الزھد وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وغساق “ وہ چیز ہے کہ اس کے چکھنے کی طاقت نہیں رکھیں گے اس کے شدید ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے۔ 9:۔ ابن جریر (رح) نے عبداللہ بن بریدہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وغساق “ سے مراد ہے بدبودار اور وہ طخاق سے منسوب ہے۔ 10:۔ احمد و ترمذی (رح) وان جریر (رح) وان ابی حاتم (رح) وحاکم (رح) (صححہ) وابن مردویہ (رح) و بیہقی نے البعث والنشور میں ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر غساق میں سے ایک ڈول دنیا میں بہادیا جائے تو دنیا والے بدبودار ہوجائیں گے۔ جہنمیوں کی غذا لہو وپیپ ہے : 11:۔ ابن جریر (رح) نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وغساق “ سے مراد ایک چشمہ ہے جو جہنم میں ہوگا۔ جس کی طرف سانپ بچھو اور دوسری چیزوں کا زہر بہتا ہے تو اس کا رنگ بدل جاتا ہے۔ 12:۔ عبدالرزاق وفریابی (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخرمن شکلہ ازواج “ 13:۔ عبد بن حمید نے مرہ (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں نے ” الزمھریر “ یعنی شدت کی سردی کا ذکر کیا انہوں نے عبداللہ ؓ سے کہا (آیت ) ” واخرمن شکلہ ازواج “ سے یہی مراد ہے لوگوں نے عبداللہ سے کہا کیا زمھریر کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ تو انہوں یہ آیت پڑھی (آیت ) ” لا یذوقون فیھا برداولا شرابا (24) الا حمیما وغساقا (25) “ (سورۃ النباء) (نہ وہاں کی ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے اور نہ کسی پینے کی چیز کا مگر گرم پانی اور بہتی ہوئی پیپ۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واخرمن شکلہ ازواج “ میں ازواج سے مراد ہے مختلف قسم کے عذاب۔ 15:۔ ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کا ذکر فرمایا۔ زنجیروں اور طوق کا ذکر فرمایا اور جو کچھ دنیا میں ہوتا ہے اس کا ذکر فرمایا پھر فرمایا (آیت ) ” واخرمن شکلہ ازواج “ وہ ایسی چیزوں کو ذکر فرمایا جو دنیا میں دکھائی نہیں دیتیں۔ 16:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” واخرمن شکلہ ازواج “ یعنی اخر کو الف کے رفع اور خاء کے نصب کے ساتھ پڑھا۔ 17:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا (آیت ) ” واخرمن شکلہ ازواج “ یعنی آخر کو الف کے زبر اور مد کے ساتھ پڑھا۔ 18:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا فوج مقتحم معکم “ سے لیکر (آیت ) ” فبئس القرار “ تک یعنی یہ لوگ جو ان کے تابعداری کرنے والے تھے۔ وہ اپنے سرداروں سے کہیں گے۔ 19:۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم و طبرانی (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ھذا فزدہ عذابا ضعفا فی النار “ (یعنی اس کو زیادہ کیجئے آگ میں دگنے عذاب کے ساتھ) یعنی بڑے سانپوں اور چھوٹے سانپوں کے ذریعہ۔
Top