Ahsan-ut-Tafaseer - Saad : 49
هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ : یہ ایک نصیحت وَاِنَّ : اور بیشک لِلْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں کے لیے لَحُسْنَ : البتہ اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
یہ نصیحت ہے اور پرہیزگاروں کیلئے تو عمدہ مقام ہے
49۔ 64۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی 1 ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا۔ جس طرح دنیا میں لوگ اپنے گھروں کو پہنچانتے ہیں اس سے زیادہ جنتی لوگ جنت میں داخل ہونے کے وقت اپنے گھروں کو پہچانیں گے۔ اور بغیر کسی سے پوچھنے کے لئے اپنے اپنے گھروں میں چلے جائیں گے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن جنت کے محلوں کے درازوے بھی کھلے ہوں گے اور جنتی لوگ جنت میں داخل ہونے کے وقت اپنے اپنے ٹھکانے کو پہچان بھی لیویں گے اس واسطے بغیر کسی کشمکش کے ہر ایک جنتی اپنے محل میں چلا آوے گا۔ اسماعیل بن ابی رافع اور محمد بن یزید بن ابی زیاد یہ دو راوی اس حدیث کی سند میں اگرچہ ایسے ہیں۔ کہ ان کو بعضے علما نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن اسماعیل بن ابی رافع کو امام بخاری نے ثقہ کہا ہے۔ اور محمد بن یزید کی روایتوں کو ترمذی نے صحیح ٹھہرایا ہے۔ اس لئے یہ حدیث معتبر ہے قصرت الطرف اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے خاوند کے سوا وہ کسی غیر مرد کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی۔ جنتی لوگ جب جنت میں طرح طرح کی نعمتوں سے خوش ہوں گے تو ان سے یہ کہا جائے گا۔ یہ وہی نعمتیں ہیں جن کا وعدہ تم سے دنیا میں اللہ کے رسولوں نے کیا تھا۔ قیامت کے دن ہر ایک نیکی بدی کا حساب ہو کر فیصلہ ہوگا اس لئے اس کو یوم الحساب فرمایا۔ جنت میں ہر فصل کا میوہ ہر وقت ملے گا اور جس پیڑ میں سے کوئی میوہ توڑا جائے گا۔ اسی وقت وہ میوہ پھر پیدا ہوجائے گا اس لئے فرمایا وہاں کی دی ہوئی روزی ہمیشہ رہے گی۔ کبھی بگڑنے کی نہیں ھذا کا اشارہ جنت کی نعمتوں کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں کا یہ مختصر سا ذکر ہے ان نعمتوں کا تفصیلی حال نیک لوگوں کو اسی وقت معلوم ہوگا جب وہ لوگ جنت میں جائیں گے۔ صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو ؓ ہریرہ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اہل جنت کے واسطے وہ نعمتیں جنت میں پیدا کی گئی ہیں۔ جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھی نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل میں ان کا تصور گزر سکتا ہے اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ جنت کی نعمتوں کے ذکر کی جو آیتیں اور حدیثیں سنی گئی ہیں۔ وہ جنت کی نعمتوں کی مختصر حال کی ہیں کیونکہ جنت کی بہت سی نعمتیں ایسی ہیں کہ وہ اب تک کانوں سے نہیں سنی گئیں۔ اہل جنت کے ذکر کے بعد آگے اہل دوزخ کا ذکر فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں نافرمانی کی۔ مرنے کے بعد ان کے لئے برا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جس میں یہ لوگ جھونکے جائیں گے۔ کھولتا ہوا پانی اور پیپ یہ چیزیں ان کو پلائی جائیں گی۔ یہاں فقط ان ہی چیزوں کا ذکر ہے جو دوزخیوں کو پلائی جاویں گی سورة الصافات میں گزر چکا 1 ؎ ہے کہ پہلے سینڈھ کا پھل ان لوگوں کو کھلایا جا کر اس کے اوپر یہ پیپ کا ملا ہوا کھولتا پانی پلایا جائے گا۔ اس لئے کھانے کا ذکر و اخر من شکلہ ازواج فرما کر بیان کو مختصر کردیا غساق کی تفسیر حضرت عبد اللہ ؓ بن عباس نے اس پیپ کی فرمائی ہے جو اہل دوزخ کے جسموں میں سے جاری ہوگی۔ ترمذی 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں ابو سعید خدری سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا۔ اس پیپ کا ایک ڈول بھی زمین پر آن پڑے تو بدبو کے سبب سے تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی دشوار ہوجاوے۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور منذری نے اس کی صحت کی تائید کی ہے۔ سورة محمد ﷺ میں آوے گا کہ جب یہ کھولتا ہوا پانی دوزخیوں کو پلایا جاوے گا تو ان کی انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی ترمذی 3 ؎ نسائی وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ سینڈھ کے عرق کا ایک قطرہ بھی زمین پر آن پڑے تو اہل دنیا کی زیست تلخ ہوجاوے۔ دوزخ میں جا کر بہکنے والے بہکانے والوں پر اور بہکانے والے بہکنے والوں پر لعن طعن جو کریں گے۔ آگے ان کا ذکر ہے یہ ذکر سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ مشرکین مکہ کے مال دار لوگ تنگ دست مسلمان کو حقیر سمجھتے تھے اور ہمیشہ ان سے مسخرا پن کیا کرتے تھے۔ جب یہ مال دار مشرک دوزخ میں جھونکے جانے کے بعد ان تنگ دست مسلمانوں کو وہاں نہ پاویں گے۔ تو یہ باتیں کریں گے کہ یا تو ہماری نگاہ کا قصور ہے کہ وہ تنگ دست مسلمان یہاں ہم کو نظر نہیں آتے۔ یا ہمارا مسخر پن بےجا تھا وہ لوگ اچھے تھے۔ جنت میں چلے گئے ‘ بہکنے والے اور بہکانے والے آپس میں لعن طعن کی باتیں کریں گے۔ اسی کو دوزخیوں کا آپس کا جھگڑا فرمایا۔ صحیح بخاری 4 ؎ و مسلم میں انس ؓ بن مالک سے اور صحیح بخاری و ترمذی وغیرہ میں ابوذر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان میں اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ سے فرمایا مجھ کو دوزخ کے عذاب کا حال جو کچھ معلوم ہے۔ اگر وہ تفصیل وار تم سے کہہ دوں تو تم اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر جنگل میں نکل جائو اور سوا رونے کے اور تم کچھ نہ کرسکو۔ ان روایتوں کو آخری آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ جس طرح جنت کی نعمتوں کی پوری تفسیر علمائے امت کی حد علم سے باہر ہے۔ وہی حال دوزخ کے عذاب کا ہے کہ یہ پورا حال اللہ کے رسول نے علماء امت کو نہیں بتلایا۔ اس لئے شریعت محمدی ؓ میں جو کچھ یہ حال ہے وہ جنت کے حال کی طرح مختصر طور پر ہے۔ (1 ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی وصف نساء اھدالجنۃ۔ ص 990 ج 4) (2 ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقہ ص 460 ج 1) (1 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 10) (2 ؎ ترمذی شریف باب ماجاء فی صفۃ شراب اھل النار۔ ص 95 ج 2) (3 ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص 10) (4 ؎ صحیح بخاری باب لوتعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا ولبکیتم کثیرا ص 960 ج 2‘ ترمذی شریف باب لوتعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا ولبکیتم کثیرا۔ ص 61 ج 2)
Top