Tafseer-e-Saadi - Saad : 49
هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ
ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ : یہ ایک نصیحت وَاِنَّ : اور بیشک لِلْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگاروں کے لیے لَحُسْنَ : البتہ اچھا مَاٰبٍ : ٹھکانا
یہ نصیحت ہے اور پرہیزگاروں کیلئے تو عمدہ مقام ہے
آیت 49 یعنی ان انبیائے کرام کو احسن طریقے سے یاد کیجیے اور بہترین طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے ‘ کیونکہ یہ سب بہترین لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے چن لیا ‘ ان کو کامل ترین احوال ‘ بہترین اعمال و اخلاق ‘ قابل تعریف اوٹاف اور درست خصائل کا حامل بنایا۔ (ھذا) ” یہ “ یعنی انبیاء ومرسلین اور ان کے اوصاف کا تذکرہ تو (ذکر) ” نصیحت حاصل کریں ‘ اقتدا کرنے والے ان کے اوصاف حمیدہ کی پیروی کے مشتاق ہوں اور ان اوصاف رکیہ اور ثنائے حسن کی مچرٹت حاصل ہو جن اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا۔ یہ بھی ذکر کی ا کی قسم ہے ‘ یعنی اہل خیر کا تذکرہ اہل خیر اور اہل شر کی جز او سزا کا تذکرہ بھی ذکر ہی کی ایک قسم ہے ‘ اس لیے فرمایا : (وان للمتّقین) یعنی ان تمام مومنین اور مومنات کے لیے جو اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقوی اختیار کرتے ہیں (لحسن ماٰب) بہترین ٹھکانا اور خوب ترین مرجع ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین ٹھکانے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا :
Top